امریکہ کے 112 فوجی اڈوں کو خود کش حملوں کا نشانہ بنائیں گے: سخت گیر ایرانی

جنگ ایک الم ناک تجربہ ہوتا ہے خواہ وہ قومی، دفاعی یا مذہبی بنیاد پر واقع ہو۔ بہت سے ممالک حتی الامکان جنگ سے گریز کرتے ہیں تا کہ اپنے عوام کو اس کے افسوس ناک نتائج سے دْور رکھا جا سکے جو ملک میں تباہی و بربادی، ہزاروں افراد کے ہلاک، زخمی، معذور اور بے گھر ہو جانے کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ تاہم اس حقیقت کے باوجود ایک سخت گیر ایرانی میڈیا پَرسن علی رضا فرقانی کے نزدیک ان کے ملک کو “ایک بیرونی جنگ کی ضرورت ہے”۔ فرقانی نے واشنگٹن کو دھمکی دی ہے کہ ایران نواز خود کش عناصر کسی بھی ممکنہ جنگ کی صورت میں 112 ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنائیں گے۔ ایرانی نظام کے بانی خمینی کی جانب سے بھی 80ء کی دہائی میں یہ بات دْہرائی جاتی تھی کہ “جنگ ایک نعمت” ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے عراق ایران جنگ کے خاتمے کا فیصلہ قبول کرتے ہوئے خمینی کا کہنا تھا کہ “میں یہ زہر کا گْھونٹ پی رہا ہوں”۔ ایرانی ویب سائٹ ارمان پریس کے ایڈیٹر انچیف علی رضا فرقانی نے ایک مضمون لکھا ہے جس میں امریکہ کے خلاف جنگ کے سلسلے میں ایرانیوں کے تیار ہونے کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے رواں برس اپریل کے اواخر میں انکشاف کیا تھا کہ امریکی وزارت دفاع پینٹاگون ایک منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد مشرق وسطی میں ایرانی توسیع کے منصوبے اور خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے والی ملسح جماعتوں کے لیے ایرانی سپورٹ کا مقابلہ کرنا ہے۔ فرقانی نے اپنے مضمون میں ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر محمد علی جعفری کے بیان کا حوالہ دیا جس میں جعفری کا کہنا تھا کہ “ہم امریکہ کے خلاف ایک بڑی جنگ کے لیے تیار ہیں”۔ ایرانی میڈیا پَرسن نے ایک بیرونی جنگ کرنے کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس کی بنیاد “جہاد” ہے۔ فرقانی کے مطابق اس طرح کی جنگ دو فکری نمونوں کے بیچ ہوتی ہے۔ ان میں ایک اْلوہیت(Theism) اور دوسرا انسانیت (Humanism) ہے۔ فرقانی نے امریکی عہدیداران کو دھمکی دیتے ہوئے خبردار کیا کہ “آپ لوگوں کو یہ جان لینا چاہیے کہ آئندہ جنگ ایرانی اسلامی انقلاب کو یقینی بنائے گی اور امریکہ کا مکمل خاتمہ کر دے گی”۔ فرقانی کے مطابق یہ ایک ایسی قوم کی جانب سے دی گئی دھمکی ہے جس کی لغت میں “ہزیمت” کا لفظ موجود نہیں۔ مضمون نگار نے قرآنی آیات کی خود ساختہ تفسیر کرتے ہوئے امریکہ کے ساتھ جنگ کو مقدّس قرار دیا اور اس طرح کی جنگ میں ایران کو “حق کا محاذ” قرار دینے سے بھی احتراز نہ کیا۔ علی رضا فرقانی سابق صدر محمود احمدی نژاد کی حکومت کے دور کی انتظامیہ میں شامل تھا۔ وہ خلیج عربی میں جزیرہ “کیش” کا گورنر بھی رہا۔ بعد ازاں احمدی نژاد کی حکومت کے ساتھ اختلافات کے بعد اس نے اپنے منصب سے استعفیٰ دے دیا۔ ایران میں سخت گیر ٹولے سے تعلق رکھنے والے اس شدت پسند نے ماضی میں اپنے بیان سے امریکی میڈیا میں کہرام پیدا کر دیا تھا۔ فرقانی نے فارسی اور انگریزی زبانوں کے اپنے بلاگ پر لکھا تھا کہ ” میری آرزو ہے کہ امریکہ کسی طور شام پر حملہ کر دے تا کہ ہم اوباما کی بیٹی کو عصمت دری کا نشانہ بنا سکیں”۔ فرقانی نے اپنے مضمون میں امریکہ کے کمزور پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے دھمکی دی کہ “جنگ کے آغاز کے بعد 21 گھنٹوں کے اندر دنیا کے مختلف ممالک سے امریکہ کے ہر وزیر، سفیر اور عسکری کمانڈر کے اہل خانہ میں سے کم از کم ایک شخص کو اغوا کر کے اْس کے اعضاء کاٹ دیے جائیں گے”۔

جواب چھوڑیں