راجیوگاندھی کے قاتلوں کو رہا نہیں کیا جاسکتا

سپریم کورٹ کو مرکز نے جمعہ کے دن جانکاری دی کہ راجیو گاندھی قتل کیس کے خاطیوں کو رہا نہیں کیا جاسکتا۔ مرکز نے کہا کہ انہیں رہا کرنے سے ’’خطرناک نظیر ‘‘ قائم ہوگی۔ ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل پنکی آنند نے مرکز کی طرف سے حاضر ہوتے ہوئے جسٹس رنجن گوگوئی کی زیرقیادت بنچ سے کہا کہ حکومت ٹاملناڈو کی تجویز‘ مرکز کے لئے قابل قبول نہیں ہے۔ مرکز نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ سابق وزیراعظم کے قاتلوں کو رہا کرنے سے انتہائی غلط نظیر قائم ہوگی۔ اس کیس کے قیدی‘ رہائی کے مستحق نہیں۔ وزارت داخلہ کے 18 اپریل کے فیصلہ کو بنچ کے سامنے رکھتے ہوئے پنکی آنند نے کہا کہ مرکز نے ریاستی حکومت کی تجویز کے برخلاف 7 خاطیوں کو رہا نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سنٹرل بیورو آف انوسٹیگیشن (سی بی آئی) نے ’’انصاف کے مفاد‘‘ میں حکومت ٹاملناڈو کی رہائی کی تجویز کی مخالفت کی ہے۔ کیس کا ازسرنو جائزہ لیا گیا‘ عدلیہ اور عاملہ کے مختلف فورمس میں اس کی جانچ ہوئی اور فیصلہ ہوا۔ ملک کے سابق وزیراعظم کا دیگر 15 افراد جن میں بیشتر پولیس عہدیدار تھے‘ سفاکانہ قتل کرنے والے 4 بیرونی شہریوں کو ان کے 3 ہندوستانی ساتھیوں کے ساتھ رہا کرنا خطرناک نظیر قائم کرے گا اور اس کے بین الاقوامی مضمرات بھی ہوں گے۔ مرکزی حکومت نے کہا کہ مرکز‘ کوڈ آف کریمنل پروسیجر (سی آر پی سی/ ضابطہ فوجداری) کی دفعہ 435 کے مطابق حکومت ٹاملناڈو کی اس تجویز سے اتفاق نہیں کرتا کہ 7 خاطیوں کی سزا مزید گھٹائی جائے۔ مرکز نے سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق رپورٹ داخل کی۔ سپریم کورٹ نے اس سے کہا تھا کہ وہ حکومت ٹاملناڈو کی تجویز کا اندرون 3ماہ جواب داخل کرے۔

جواب چھوڑیں