پال گھر میں ہندو کارکن گرفتار‘ دھماکو اشیا برآمد

مہاراشٹرا انسداد دہشت گردی اسکواڈ(اے ٹی ایس) نے ہندو جاگرن سمیتی(ایچ جے ایس) کے ایک دایاں بازو کارکن کو پکڑلیا ہے اور اس کے مکان (پال گھر) سے جمعہ کی صبح کچھ دھماکو مادہ برآمد کیا ہے۔ اس کی شناخت ویبھو راوت کی حیثیت سے ہوئی ہے ۔قبل ازیں شبہ تھا کہ وہ ایک اور دایاں بازو گروپ سناتن سنستھا کا رکن ہے۔ صبح نالاسوپارہ ٹاؤن میں دھاوا کیا گیا۔ اے ٹی ایس نے ہندو گروپ کے اس رکن کو پکڑنے ڈاگ اسکواڈ کی مدد ملی۔ اے ٹی ایس نے نالاسوپارہ کے بھنڈرالی علاقہ میں اس کے مکان اور دکان پر دھاوے میں بم بنانے کا سامان بشمول ڈیٹونیٹرس ‘ دھماکو پاؤڈر اور قابل اعتراض اشیا برآمد کیں۔ اس کے پاس دھماکو اشیا کی موجودگی کا مقصد واضح نہیں ۔ راوت کو پال گھر سے عدالت میں پیش کرنے ممبئی لے جایا گیا۔ ایچ جے ایس نے اس کے بقول ایک مذہبی ہندو کی گرفتاری کو مالیگاؤں2 قراردیا اور کہا کہ راوت ہندو گئو ونش رکھشا سمیتی کا سرگرم گئو رکھشک ہے۔ مہاراشٹرا اور چھتیس گڑھ کے ایچ جے ایس آرگنائزر سنیل گھنوٹ نے کہا کہ راوت ایچ جے ایس کے پرچم تلے ہندو تنظیموں کو متحد کرنے کے پروگرامس میں حصہ لیتا تھا لیکن گذشتہ چند ماہ سے وہ کسی بھی پروگرام میں حصہ نہیں لے رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہندو تنظیموں کے کارکنوں کو غیرضروری ہراسانی اور انہیں جھوٹے کیسس میں پھنسانے کے واقعات نئے نہیں ہیں۔ مالیگاؤں (2008) سے یہ ثابت ہوچکا ہے۔ وہ کئی ہندو کارکنوں بشمول سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کی گرفتاری کا حوالہ دے رہے تھے۔ قبل ازیں راوت کے وکیل سنجیو پنہلکر نے بھی میڈیا کو بتایا کہ راوت سناتن سنستھا کا رکن نہیں ہے۔ سنستھا کو بدنام کرنے اس کا نام دانستہ لیا جارہا ہے۔ یو این آئی کے بموجب مہاراشٹرا اے ٹی ایس نے ہندو جاگرن سمیتی کے دایاں بازو کارکن کو گرفتار کرلیا اور جمعہ کی صبح پال گھر میں اس کے مکان سے بعض دھماکو اشیا برآمد کیں۔ نالاسوپارہ میں صبح دھاوا کیا گیا تھا۔ اے ٹی ایس نے ہندو گروپ کے رکن کو پکڑنے ڈاگ اسکواڈ کو حرکت میں لایا تھا۔ اے ٹی ایس نے اس کے مکان اور دکان سے بم بنانے کا سامان اور قابل اعتراض مواد برآمد کیا۔

جواب چھوڑیں