پلے شوبھا پروگرام پر دتاتریہ کااعتراض

سابق مرکزی وزیر و بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ بنڈا رودتاتریہ نے آج مجوزہ ’’ پلے شوبھا‘‘ پروگرام کی موزونیت پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ٹی آر ایس حکومت ، ادارہ جات مقامی کے انتخابات منعقد کرانے میں ناکام رہی ہے ۔ نئی دہلی میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سکندرآباد کے رکن پارلیمنٹ بنڈارودتاتریہ نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت نے 15؍ اگست سے ’’ پلے ( موضع ) شوبھا‘‘ پروگرام شروع کرنے کا اعلان کیا ہے مگر حکومت، ہائی کورٹ میں دائر کیس کا حوالہ دیتے ہوئے وقت پر ادارہ جات مقامی ( گرام پنچایت) کے انتخابات کے انعقاد میں ناکام رہی ہے ۔ انہوںنے سوال کیا کہ سرپنچوں کے بغیر حکومت کس طرح مواضعات کو ترقی کی راہ پر گامزن کرسکتی ہے ۔ کیونکہ سرپنچ ہی مواضعات میں حکومت کے پروگراموں کو روبہ عمل لانے کے مجاز رہتے ہیں۔ ریاستی حکومت نے سرپنچوں اور پنچایت راج اداروں کو فنڈس جاری نہیں کی ہے تو پھر کہاں سے پلے شوبھا پروگرام کیلئے فنڈس جاری کئے جائیں گے ۔ ٹی آرایس حکومت کے اختراعی پروگرام مشن کاکتیہ اور آبپاشی پراجکٹوں کی تعمیر کا تذکرہ کرتے ہوئے بنڈا رودتاتریہ نے کہا کہ مشن کاکتیہ کی کامیابی پر قرطاس ابیض (وائٹ پیپر) جاری کیا جاناچاہئے ۔ حکومت نے کہا کہ ریاست میں45ہزار تالاب اور کنٹے ہیں جن میں سے26 ہزار تالابوں کے مرمتی کام مکمل ہوچکے ہیں۔ انہوںنے حکومت سے پوچھا کہ جن تالابوں کی مرمت کی گئی ہے ان تالابوں کو پانی سے کیوں نہیں بھرا گیا ۔ دتاتریہ نے صرف کالیشورم پراجکٹ کے تعمیری کاموں پر45ہزار کروڑ روپے خرچ کئے جانے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ صرف ایک پراجکٹ کیلئے زر کثیر خرچ کرنے کی کیا ضرورت ہے ۔ جبکہ جاریہ خریف سیزن سے اس پراجکٹ کے ذریعہ کھیتوں کو پانی سربراہ نہیں کیا جاسکے گا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھی حقیقت ہے کہ گذشتہ4برسوں کے دوران ٹی آر ایس حکومت نے ایک پراجکٹ کے بھی کام مکمل نہیں کرائے ہیں۔ انہوں نے سونیا اور راہول گاندھی کے بشمول نہرو خاندان کو مخالف دلت قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ کانگریس پارٹی اور نہرو خاندان نے ایس ٹی اور ایس سی طبقات کو دھوکہ دیا ہے ۔ جبکہ مرکز کی این ڈی اے حکومت نے پارلیمنٹ میں ایس سی ، ایس ٹی ایکٹ کے احیاء کا بل منظور کراتے ہوئے تاریخ ساز کارنامہ انجام دیا ہے ۔

جواب چھوڑیں