کیرالا میں سیلاب،30 افراد ہلاک،54000 افراد بے گھر

جنوب مغربی مانسون کے باعث طوفانی بارش کی وجہ سے آج سارے کیرالا میں تباہی وبربادی ہوئی۔ حکام کو 40 سال میں پہلی مرتبہ ایدوکی کے چیروتھونی ڈیم کے تمام 5 دروازوں کو کھول دینے پر مجبور ہونا پڑا۔ نشیب میں واقع کئی علاقوں میں جن میں بندرگاہی شہر کوچی بھی شامل ہے سیلاب کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ مہلوکین کی تعداد بڑھکر 30 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 4 افراد لاپتہ ہیں۔ اضلاع ایدوکی اور وایاناڈ میں جہاں پر آج دوسرے دن بھی بارش کا سلسلہ جاری رہا اور اس کے رکنے کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیئے سخت ترین چوکسی اختیار کرلی گئی ہے۔ تباہ کاریوں سے نمٹنے والی اسٹیٹ اتھاریٹی نے اعلان کیا کہ ضلع وایا ناڈ میں 14 اگست، ایدوکی میں 13 اگست اور علی پوزا، کوٹایم، ایرناکلم، پالکڑ، ملاپورم اور کوزی کوڑ میں 11 اگست تک ریڈالرٹ رہے گا۔ کوچی میں واقع سدرن نیول کمانڈ نے ایک بیان میں کہا ’’بحریہ کی جانب سے آپریشن مدد کا آغاز کیا گیا ہے تاکہ ریاست کی مدد کی جاسکے جہاں پر سیلاب کی سنگین صورتحال دیکھی جارہی ہے۔ علاوہ ازیں تلاشی کا کام کرنے والے چھوٹی کشتیوں اور ہیلی کاپٹرس سے بھی استفادہ کیا جارہا ہے۔ کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کیلئے نیوی ہاسپٹل کو بھی تیار رکھا گیا ہے‘‘ اسی دوران موصولہ ایک اور اطلاع میں بتایا گیا ہے کہ کیرالا کے مختلف حصوں میں موسلا دھار طوفانی بارش کی وجہ سے کافی جانی ومالی نقصانات ہوئے۔ ایدوکی اور شمالی کیرالا کے مختلف حصوں کے علاوہ ضلع پالکڑ میں اچانک سیلاب آنے کا اندیشہ پیدا ہوگیا ہے۔ سی کنگ ہیلی کاپٹر زائد غوطہ خوروں اور بچائوں کے آلاٹ کے ساتھ قبل ازیں دن میں وایا ناڈ روانہ ہوچکا ہے۔ دریائوں میں سیلاب کی سطح کافی زیادہ ہوگئی ہے۔ جس کے باعث آرمی کی بچائو ٹیم کو وایاناڈ کے ان مواضعات کو جن سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے پہنچنے میں کافی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔سی کنگ ہیلی کاپٹر کو شدید ترین بارش اور راستہ میں خرابی موسم کا سامنا درپیش ہونے کے باوجود بچائو عملہ متبادل راستہ کے ذریعہ نامزد کردہ ڈراپ پوائنٹ پہنچ گیا اور عملہ اور بچائو کے آلات کو وہاں اتار دیا گیا۔ وزیر صحت کیرالا کے سریندرن نے فیس بک پر بتایا کہ تمام سیاحوں کو آرمی کی مدد سے بچالیا گیا۔ اسی دوران نئی دہلی سے موصولہ یو این آئی کی اطلاع میں بتایا گیا کہ مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کیرالا میں طوفانی بارش کی وجہ سے پیدا شدہ صورتحال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے چیف منسٹر کیرالا پی وجین سے فون پر بات کی اور انہیں یقین دلایا کہ مرکز کی جانب سے ریاست کو ہر ممکنہ مدد فراہم کی جائے گی۔ رات دیر گئے موصولہ اطلاع میں بتایا گیا کہ سارے کیرالا میں طوفانی بارش کی وجہ سے ڈیم اور دریا پانی سے لبریز ہوگئے۔ شاہراہوں کے حصوں میں شگاف پڑ گئے، کئی گھر بہہ کر چلے گئے۔ اچانک سیلاب اور زمین کے کھسکنے کے واقعات میں 30 افراد ہلاک ہوگئے اور تقریباً54000 افراد بے گھر ہوگئے۔ محکمہ موسمیات کے حکام نے بتایا کہ مزید 2 روز تک شدید ترین بارش ہوسکتی ہے۔

جواب چھوڑیں