آرٹیکل 35 اےکا دفاع کسی خطہ‘ مذہب تک محدود نہیں:محبوبہ مفتی

سابق چیف منسٹر جموں وکشمیر محبوبہ مفتی نے آج کہا کہ جموں و کشمیر کے خصوصی موقف کی مدافعت کسی ایک علاقہ یا مذہب تک محدود نہیں رہی کیونکہ ریاست کے عوام کو اس کی اہمیت اور تقدس کا احساس ہوگیا ہے۔ وہ جموں علاقہ کے 2 بی جے پی ارکان اسمبلی کے آرٹیکل 35A کی تائید میں سامنے آنے کی خبروں کا حوالہ دے رہی تھیں۔ اس دفعہ کو سپریم کورٹ میں قانونی چیلنج درپیش ہے۔ محبوبہ مفتی نے ٹویٹر پر لکھا کہ یہ جان کر اچھا لگا کہ بی جے پی کے 2 ارکان اسمبلی راجیش گپتا اور ڈاکٹر گگن بھگت نے آرٹیکل 35A کے حق میں آواز اٹھائی ہے۔ جموں وکشمیر کے خصوصی موقف کا دفاع کسی ایک خطہ یا مذہب تک محدود نہیں رہا۔ ریاست کے عوام کو اس کی اہمیت اور تقدس کا احساس ہوگیا ہے۔ سابق چیف منسٹر نے کہا کہ ان کی حکومت نے سپریم کورٹ میں یہ کیس لڑا۔ سیاسی لڑائی میں وہ تنہا اٹھ کھڑی ہوئی تھیں کہ آرٹیکل 35A کو ہٹائے جانے سے ریاست میں آگ لگ جائے گی۔ محبوبہ نے لکھا کہ آج مجھے کچھ راحت ملی ہے کہ جموں وکشمیر کے خصوصی موقف کے تحفظ کا جہاں تک تعلق ہے بلالحاظ سیاسی وابستگی ہم سبھی ایک ساتھ کھڑے ہیں ۔ سپریم کورٹ نے 6 اگست کو کہا تھا کہ سہ رکنی بنچ فیصلہ کرے گی کہ آیا دفعہ 35A کو چیلنج کرتی درخواستوں کو 5 رکنی دستوری بنچ سے رجوع کیا جائے یا نہیں۔ چیف جسٹس دیپک مشرا اور جسٹس اے ایم کھنولکر پر مشتمل بنچ نے 27 اگست تک سماعت ملتوی کردی تھی۔ اُس دن تیسرے جج جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ عدالت نہیں آئے تھے۔

جواب چھوڑیں