امریکی پابندیوں کے سبب 5 لاکھ افغان‘ ایران سے کوچ پر مجبور

ایران کو اس وقت اپنی جدید تاریخ میں غیر مسبوق نوعیت کے اقتصادی بحران کا سامنا ہے۔ امریکہ کی جانب سے سخت اقتصادی پابندیوں نے اس بحران کی ابتری میں اضافہ کر دیا ہے۔ اس صورت حال نے نہ صرف ایرانی شہری کی معاشی زندگی پر منفی اثرات ڈالے ہیں بلکہ ایران میں موجود افغان مہاجرین بھی اس کی لپیٹ میں آ رہے ہیں۔ ان مہاجرین میں لاکھوں افراد نے افغانستان میں طالبان اور سرکاری فوج کے درمیان شدید لڑائی کے باوجود اپنے وطن واپسی کو ایران میں رہنے پر ترجیح دی ہے۔ انٹرنیشنل آرگنائزیشن آف مائیگریشن کی رپورٹ کے مطابق ایران میں حالیہ اقتصادی بحران اور ایرانی کرنسی کی قدر میں غیر مسبوق نوعیت کی گراوٹ نے افغان مہاجرین کی ایک بڑی تعداد کو ایرانی سرزمین چھوڑ کر اپنے وطن افغانستان کا رخ کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ گزشتہ سات ماہ کے دوران 4.4 لاکھ سے زیادہ افغان شہری ایران سے واپس جا چکے ہیں۔ ہرات میں مذکورہ تنظیم کے ترجمان نے واضح کیا کہ 2018ء میں ایران سے واپس لوٹنے والے افغان مہاجرین کی تعداد غیر مسبوق ہے جو کہ 2017ء میں ایران سے افغانستان واپس آنے والوں کے مقابلے میں دو گْنا ہے۔ رواں برس آٹھ مئی کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ طے پائے گئے جوہری معاہدے سے یک طرفہ علاحدگی کا اعلان کر دیا جس کے بعد ایرانی کرنسی کی قیمت گزشتہ 6 ماہ کے دوران اپنی تاریخ کی نچلی ترین سطح پر پہنچ گئی۔ افغانستان کے صوبے پروان سے تعلق رکھنے والے شہری عبدالمنصور نے اپنے آبائی علاقے واپس لوٹنے کے بعد فرانسیسی ریڈیو “RFI” کی فارسی سروس کو بتایا کہ وہ تین برس قبل ہجرت کر کے ایران کے شہر اصفہان پہنچا تھا۔ وہاں اس نے ماہانہ 215 یورو کے مساوی تنخواہ پر گاڑیوں کے ایک کارخانے میں کام شروع کر دیا۔ تاہم ایرانی کرنسی کی قدم میں کمی کے بعد اس کی تنخواہ کم ہو کر ایک تہائی رہ گئی۔ یہ رقم اس کے والدین اور 9 بہن بھائیوں کے گزر بسر کے لیے کافی نہ تھی۔ اس کے سبب وہ اصفہان سے واپس آ گیا اور اب افغانستان کے شہر ہرات میں بہتر آمدنی والے روزگار کی تلاش میں ہے۔ ایران میں موجود افغانوں کو اس وقت کئی مسائل درپیش ہیں۔ ایرانی حکام انہیں اشیائے صرف سرکاری نرخوں پر فروخت نہیں کرتے ہیں۔ انہیں آمد و رفت کے عام ذرائع میں سوار ہونے کی اجازت نہیں ہے اور اسکولوں میں ان کے بچوں کا اندراج نہیں ہو سکتا ہے۔ ادھر ایران ان میں بعض ضرورت مندوں کو فاطمیون ملیشیا میں بھرتی کرتا ہے جو شام میں ایرانی پاسداران انقلاب کے ماتحت بشار الاسد کی فوج کے شانہ بشانہ لڑ رہی ہے۔دوسری جانب ایران کو عنقریب مہنگائی اور قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی لہر کا سامنا ہو گا۔ چار نومبر کو امریکی پابندیوں کے دوسرے مرحلے کے آغاز کے ساتھ ہی قوّت خرید میں شدید کمی آئے گی۔ اس مرحلے میں تیل ، گیس اور بحری آمد و رفت کا سیکٹر شامل ہو گا۔ لہذا ایران کی روزگار کی منڈی اب افغان مہاجرین کے لیے پْر کشش نہیں رہی جنہوں نے جنگوں کے سبب اپنا وطن چھوڑا اور بہتر معاشی حالات کی خاطر ایران کا رخ کیا۔

جواب چھوڑیں