رافیل معاملت نے ہندوستانی نوجوانوں کا روزگار چھین لیا:راہول

صدرکانگریس راہول گاندھی نے آج رافیل طیارہ معاملت پر وزیر اعظم نریندرمودی کو پھر ایک بار ہدف تنقید بنایا۔ گاندھی نے آج یہاں راجستھان ریاستی اسمبلی انتخابات کیلئے اپنی پارٹی کی مہم کا آغاز کردیا۔( ریاستی اسمبلی انتخابات جاریہ سال کے اواخر میں منعقد ہونے و الے ہیں) ۔اُنہوںنے مذکورہ فرانسیسی لڑاکا طیاروںکی معاملت میں مودی کو راست ہدف تنقید بناتے ہوئے کہاکہ وزیر اعظم نے اپنے تاجر ’’ دوست‘‘ انیل امبانی پرمہربانی کی تھی اور اُنہیں ’’کنٹراکٹ‘‘ دلا یاتھا۔ یہاں یہ تذکرہ مناسب ہوگا کہ انیل امبانی نے راہول گاندھی کے الزامات کو پہلے ہی مسترد کردیا ہے اور زوردیکر کہا ہے کہ رافیل طیارے تیار کرنے والی فرانسیسی فرم ڈسالٹ کے اِس اقدام میں حکومت کا کوئی رول نہیں ہے کہ ڈسالٹ نے اُن کی کمپنی کو بحیثیت ایک مقامی پارٹنر چنا تھا۔ یہاں یہ بات بھی بتا دی جائے کہ ہندوستان نے 36رافیل طیاروں کی خریدی کیلئے 2015میں فرانس کے ساتھ ایک بین حکومتی معاہدہ پر دستخط کئے تھے۔ راہول گاندھی نے یہاں رام لیلا گرائونڈ پر پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ رافیل معاملت نے نوجوان ہندوستانیوں بشمول انجینئروں سے روزگار کے مواقع چھین لئے کیونکہ مذکورہ طیارے ‘ بیرون ملک بنائے جائیں گے۔ ماضی میں کانگریس کی زیر قیادت حکومت نے رافیل طیاروں کی جس قیمت پر اتفاق کیا تھا اب اُن طیاروں کی قیمت تقریباً ’’ تین گنا‘‘ ہوگئی۔ اُنہوںنے کہاکہ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ مودی کی ’’ رشوت ستانی ظاہر ہوگی‘‘ ۔ صدر کانگریس نے دعویٰ کیاکہ ملک میں ہرروز صرف 450 نوجوانوں کو روزگار ملتا ہے جبکہ چین‘ ہر24 گھنٹے میں 50ہزار افراد کیلئے روزگار کے مواقع پیدا کرتا ہے۔ ’’ ہمارے نوجوان ‘ چینی نوجوانوں کے مقابلہ میں زیادہ دیانتدار ہیں‘ زیادہ ذہین ہیں اورزیادہ طاقتور ہیں لیکن یہ شرم کی بات ہے کہ تقریباً مساوی آبادی ہونے کے باوجود ہمارے نوجوانوں کو روزگار مواقع کم مل رہے ہیں‘‘۔راہول گاندھی نے پوچھا کہ 15یا 20 بڑے صنعتکاروں کے ادا شدنی قرضہ جات 2,30,000کروڑ روپئے کیوں معاف کئے جاسکتے ہیں جبکہ حکومت‘ قرض کے بوجھ تلے کسانوں کی مدد نہیں کرسکتی ‘ جب کسان اپنے قرضہ جات ادا نہیں کرسکتے تو اُنہیں نادہندہ کہہ کر جیل بھیج دیا جاتا ہے لیکن بڑے صنعتکاروں کے قرضہ جات کو غیر کارکرد اثاثہ جات(این پی اے) کا نام دیا جاتا ہے ۔ راہول گاندھی نے حکومت پر خواتین کی حفاظت کو یقینی بنانے میں ناکام ہونے کا بھی الزام عائد کیا۔

جواب چھوڑیں