عثمانیہ یونیورسٹی ممنوعہ مقام نہیں : ملو بھٹی وکرامارکہ

صدرکانگریس راہول گاندھی کو عثمانیہ یونیورسٹی کے دورہ کی اجازت نہ دئیے جانے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے پردیش کانگریس کے کارگذار صدر ملو بھٹی وکرامارکہ نے کہا کہ عثمانیہ یونیورسٹی کوئی ممنوعہ مقام نہیں ہے۔ راہول گاندھی کو دورہ ِ عثمانیہ یونیورسٹی کی اجازت نہ دیا جانا دراصل حکومت کے ظلم واستبداد کا ایک حصہ ہے ۔ انہوںنے استفسار کیا کہ کسی کو عثمانیہ یونیورسٹی کے دورہ سے باز رکھنا کہاں کا انصاف ہے جبکہ یونیورسٹی، سماج کو ایک بہتر سمت دینے کا ایک مقام ہے۔ ملوبھٹی وکرامارکہ نے ہفتہ کو گاندھی بھون میں ڈاکٹر گیتا ریڈی صدرنشین پی اے سی ، اور کانگریس کے سکریٹری مدھو یاشکی گوڑ کے ساتھ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے حکومت تلنگانہ سے سوال کیا کہ علیحدہ تلنگانہ دینے والی کانگریس پارٹی کے سربراہ کے ساتھ اس طرح کا سلوک جائز ہے ۔ کانگریس نے علاقہ کے چار کروڑ عوام کی بہتری اور ان کی ترقی کیلئے علیحدہ تلنگانہ کے قیام کی منظوری دی ہے مگر افسوس کہ علیحدہ ریاست کے فوائد سے ا یک خاندان کے 4 افراد مستفید ہورہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ راہول گاندھی کو عثمانیہ یونیورسٹی کے دورہ سے ہمیشہ روکا نہیں جاسکے گا اگر حکومت راہول کو یونیورسٹی کے دورہ سے بار بار روکنے کا سوچتی ہے تو وہ غلط سوچ رہی ہے۔ انہوںنے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ یونیورسٹی طلبہ کی خواہش کے مطابق اجازت دے اگر حکومت اپنا رویہ تبدیل کرنے میں ناکام رہتی ہے تو وہ خود یونیورسٹی جائیں گے اور کھڑی کی گئی رکاوٹوں کو ہٹادیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ دورہ کے دوران راہول، شہیدان تلنگانہ کو بھر پور خراج پیش کریں گے ۔ وہ خواتین، نوجوانوں، اقلیتوں اور سٹلرس( آندھرائی مقیم افراد) میں خود اعتمادی پیدا کریں گے ۔ یہ طبقات ، حکومت کی لاپرواہی سے مسائل سے دوچار ہیں۔ انہوںنے طلبہ و نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ14؍ اگست کو سرورنگر کے اسٹیڈیم میں منعقد شدنی ودیا رتھی گرجنا میں کثیر تعداد میں شرکت کریں ۔ مدھو یاشکی گوڑ نے الزام عائد کیا کہ کے سی آر حکومت10فیصد کمیشن اور 30 فیصد شیر پر کام کررہی ہے۔ انہوںنے الزام عائد کیا کہ کے سی آر کے دور حکومت میں لوٹ کھسوٹ جاری ہے ۔ سری رام ساگر پراجکٹ سے پانی چھوڑنے کے مطالبہ پر احتجاج منظم کرنے پر کاشتکاروں کے خلاف فرضی کیس درج کئے جارہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ کے سی آر کے ’’ دورانتم‘‘ دور بہت جلد ختم ہونے والا ہے ۔ ڈاکٹر گیتا ریڈی نے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر نے خواتین کی بہبود کو نظر انداز کردیا ۔ انہوںنے کے سی آر سے سوال کیا کہ کابینہ میں ایک بھی خاتون کو کیوں نہیں لیا گیا آیا انہیں ایک بھی اہل اور قابل خاتون نہیں ملی جنہیں کابینہ میں شامل کیا جاتا ۔ انہوںنے الزام عائد کیا کہ حکومت، راہول گاندھی کے دورہ میں رکاوٹ کھڑی کررہی ہے ۔ کے چندر شیکھر راؤ کو چاہئے کہ اپنے رویہ میں تبدیلی لاتے ہوئے راہول کو دورہ عثمانیہ یونیورسٹی کی اجازت دیں۔ انہوںنے اس ایقان کا اظہار کیا کہ اگر دسمبر میں بھی انتخابات منعقد کئے جائیںتو کانگریس کو شاندار کامیابی ملے گی اور کانگریس اقتدار پر دوبارہ واپس آئے گی۔

جواب چھوڑیں