عراقی وزیراعظم حیدر العبادی آیندہ ہفتے ترکی اور ایران کا دورہ کریں گے

عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی آیندہ ہفتے ترکی اور ایران کے دورے پر جائیں گے۔وہ یہ دورہ ایسے وقت میں کررہے ہیں جب امریکا نے ایران کے خلاف نئی اقتصادی پابندیاں عاید کردی ہیں اور ترکی پر بھی اقتصادی دباؤ بڑھا دیا ہے۔عراق کے ایک عہدہ دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ’’ وزیراعظم حیدر العبادی منگل کو ترکی جائیں گے اور بدھ کو ایران کے دورے پر جائیں گے۔وہ ان دونوں ملکوں کی قیادت سے اقتصادی تعاون کے حوالے سے تبادلہ خیال کریں گے۔عراق ایران کی نان ہائیڈرو کاربن مصنوعات کا دوسرا بڑا درآمد کنندہ ملک ہے۔اس نے ایران سے 2017ء میں قریباً چھے ارب ڈالرز مالیت کی اشیاء خرید کی تھیں ۔وہ ایران سے بجلی بھی خرید کررہا ہے۔ واضح رہے کہ عراق کے جنوبی شہروں میں حالیہ ہفتوں میں بجلی سمیت بنیادی شہری خدمات کی عدم دستیابی پر حکومت کے خلاف کئی روز تک احتجاجی مظاہرے کیے گئے تھے۔حیدر العبادی نے گذشتہ منگل کو کہا تھا کہ عراق ایران کے خلاف امریکا کی عاید کردہ نئی پابندیوں پر متردد انداز میں عمل درآمد کرے گا۔اسی روز امریکا کی ایرا ن کے خلاف نئی پابندیوں کا نفاذ ہوا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ ’’ ہم ان پابندیوں کی حمایت نہیں کرتے ہیں کیونکہ یہ ایک تزویراتی غلطی ہیں لیکن ہم ان کی پاسداری کریں گے‘‘۔عراق امریکا کا تزویراتی شراکت دار اور اتحادی ہے۔اس نے امریکا کی قیادت میں داعش مخالف اتحاد کی فوجی مہم کے نتیجے ہی میں اس سخت گیر جنگجو گروپ کے خلاف فتح حاصل کی تھی لیکن اس کے ایران کے ساتھ بھی مضبوط تعلقات استوار ہیں اور ایران اس کی داخلی سیاست اور دوسرے امور میں بھی پوری طرح دخیل ہے۔عراقی وزیراعظم کے انقرہ کے دورے سے قبل ترکی اور امریکا کے دو طرفہ تعلقات میں پادری اینڈریو برونسن کو زیر حراست رکھنے کے معاملے پر کشیدگی پیدا ہوچکی ہے اور ٹرمپ انتظامیہ نے ترکی کے خلاف بعض اقتصادی پابندیاں عاید کردی ہیں ۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو ترکی کی اسٹیل اور ایلومینیم کی مصنوعات پر ٹیرف دُگنا کرنے کا اعلان کیا تھا۔نیٹو کے دونوں رکن ممالک کے درمیان کشیدگی کے بعد صرف ایک دن میں ترک کرنسی لیرا کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں 16 فی صد کمی واقع ہوگئی تھی۔

جواب چھوڑیں