نہرو‘ پنڈت نہیں ہوسکتے۔ بی جے پی رکن اسمبلی آہوجہ کا متنازعہ ریمارک

جواہرلال نہرو کے خلاف اشتعال انگیز بیان میں راجستھان کے بی جے پی رکن اسمبلی گیان دیو آہوجہ نے کہا ہے کہ ملک کے پہلے وزیراعظم ’’پنڈت‘‘ نہیں تھے کیونکہ وہ بیف اور پورک (سور کا گوشت) کھاتے تھے۔ متنازعہ بیانات کے ذریعہ اکثر سرخیوں میں رہنے والے رکن اسمبلی حلقہ رام گڑھ ضلع اَلور نے ملک میں موجود تمام سماجی برائیوں کے لئے نہرو ۔گاندھی خاندان کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ آہوجہ نے کل اخباری نمائندوں سے کہا کہ نہرو‘ پنڈت نہیں ہوسکتے کیونکہ وہ بیف اور پورک کھاتے تھے۔ کانگریس نے ان کے نام سے پہلے پنڈت جوڑا۔ وہ پردیش کانگریس کے صدر سچن پائلٹ کے اس بیان پر ردعمل ظاہر کررہے تھے کہ راہول گاندھی نے اپنی دادی اندرا گاندھی سے مندروں کا درشن کرنا سیکھا۔ بی جے پی رکن اسمبلی نے دعویٰ کیا کہ گاندھی خاندان کا چشم و چراغ‘ اندرا گاندھی کے ساتھ کبھی مندر نہیں گیا۔ آہوجہ نے یہ بھی کہا کہ کسی نے ان کا یہ دعویٰ غلط ثابت کیا تو وہ اپنے عہدہ سے مستعفی ہوجائیں گے۔ کانگریس قائدین بشمول اشوک گہلوت‘ سچن پائلٹ اور غلام نبی آزاد کو بتانا چاہئے کہ راہول گاندھی کو مقدس دھاگا پہنانے کی رسم یگنو پویت سنسکار کب ہوئی۔ اگر وہ غلط ثابت ہوئے تو وہ مستعفی ہوجائیں گے ورنہ سچن پائلٹ کو مستعفی ہونا پڑے گا۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ کانگریس الیکشن کے مدنظر ذات پات کی سیاست کررہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نہرو۔ گاندھی خاندان کے تمام مجسمے اور یادگاریں ڈھادی جائیں۔ 2016 میں بی جے پی رکن اسمبلی نے یہ الزام عائد کرتے ہوئے تنازعہ پیدا کردیا تھا کہ نئی دہلی کی جے این یو(جواہر لال نہرو یونیورسٹی) سیکس اور ڈرگس کا اڈہ ہے جہاں روزانہ 3 ہزار کنڈوم (استعمال کردہ ) اور 2 ہزار شراب کی بوتلیں (خالی) ملتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ جے این یو طلبا ‘ کیمپس میں ننگے گھومتے ہیں۔

جواب چھوڑیں