کانگریس‘ امیت شاہ کے خلاف الیکشن کمیشن سے رجوع ہوگی: جئے رام رمیش

بی جے پی صدر امیت شاہ کو راست نشانہ بناتے ہوئے کانگریس نے ہفتہ کے دن کہا کہ امیت شاہ کا لڑکا نریندر مودی حکومت کی ’’اسٹارٹ اَپ انڈیا‘‘ مہم کی بہترین مثال ہے۔ پارٹی نے کہا کہ وہ امیت شاہ کے خلاف کارروائی کے لئے الیکشن کمیشن سے رجوع ہوگی جنہوں نے اس کے بقول اپنے انتخابی حلف نامہ میں یہ نہیں بتایا کہ ان کا بقایہ کتنا ہے۔ نئی دہلی میں میڈیا نمائندوں سے بات چیت میں کانگریس رکن پارلیمنٹ اور سابق مرکزی وزیر جئے رام رمیش نے میڈیا رپورٹس کے حوالہ سے الزام عائد کیا کہ امیت شاہ کے لڑکے جئے شاہ کی کمپنی ٹمپل انٹرپرائزس پر جس وقت سوال اٹھ رہے تھے اسی وقت بی جے پی صدر کے لڑکے کی کسم فنسر پر غیرضروری نوازشیں ہورہی تھیں۔ ٹمپل انٹرپرائزس کو مختصر مدت میں ہی بند کردیا گیا۔ اسے بند کرنے کے بعد امیت شاہ کے لڑکے کی ایک اور کمپنی کسم فنسر امیت شاہ کی جائیداد رہن رکھتے ہوئے وجود میں آئی۔ کسم فنسر میں بعض مبینہ بے قاعدگیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کانگریس قائد نے کہا کہ اس فرم نے اپنی سالانہ رپورٹ حکومت کو ابھی تک نہیں پیش کی ہے۔ جئے شاہ کی کسم فنسر کو باپ امیت شاہ کی صرف 5کروڑ 83 لاکھ روپے کی جائیداد رہن رکھوانے پر 95 کروڑ روپے سے زائد کا قرض ملا۔ جئے رام رمیش نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بی جے پی صدر نے جب 2017میں اپنا انتخابی حلف نامہ داخل کیا تو انہوں نے اس میں اپنے بقائے کا ذکر ہی نہیں کیا۔ میڈیا میں خبریں ہیں کہ امیت شاہ نے اپنی 2 جائیدادیں اپنے لڑکے کی کسم فنسر ایل ایل پی کے لئے رہن رکھیں اور 2 بینکوں اور ایک سرکاری ادارہ سے 97.35 کروڑ روپے کا قرض لیا حالانکہ فرم کی بیالنس شیٹ میں اس کی اصل قدر صرف 5 کروڑ 83 لاکھ روپے بتائی گئی۔ جئے رام رمیش نے الزام عائد کیا کہ امیت شاہ نے 2017 میں جب راجیہ سبھا الیکشن کے لئے اپنا حلف نامہ داخل کیا تو انہوں نے یہ بات چھپائی کہ انہوں نے اپنے لڑکے کی فرم کے لئے قرض لیا ہے۔ گجرات کے کالوپور بینک نے جو کمرشیل کوآپریٹیو بینک ہے اور جس کے ایک شیئر ہولڈر گجرات کے ڈپٹی چیف منسٹر نتن پٹیل ہیں‘ کسم فنسر کو 25کروڑ روپے کا قرض دیا۔ کانگریس قائد نے کہا کہ بی جے پی صدر کے لڑکے کی کمپنی کو گجرات انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریشن (جی آئی ڈی سی) نے 15,574.84 مربع میٹر اراضی الاٹ کی۔ ملک جاننا چاہتا ہے کہ جی آئی ڈی سی نے کیوں اور کیسے یہ اراضی الاٹ کی جس کی مالیت سانند انڈسٹریل اسٹیٹ میں صرف 6 کروڑ 33لاکھ روپے ہے۔ جئے رام رمیش نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ توانائی شعبہ میں کوئی تجربہ نہ رکھنے والی کسم فنسر کو آئی آر ای ڈی اے نے لگ بھگ 10 کروڑ 50 لاکھ روپے کا قرض اس وقت دیا جب پیوش گوئل وزیر برقی تھے۔ تمام قواعد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے یہ قرض دیا گیا تھا۔

جواب چھوڑیں