این آئی اے نے شہر سے 2 نوجوانوںکو گرفتار کرلیا

نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی ( این آئی اے ) نے آج آئی ایس آئی ایس ( داعش) کے دو مبینہ ہمدردوں کو حیدرآباد سے گرفتار کیا ہے۔ این آئی اے کے ترجمان نے بتایا کہ ہم نے حیدرآباد کے24 سالہ محمد عبداللہ باسط اور 19سالہ محمد عبدالقدیر کو گرفتار کیا ہے ۔ تاکہ جاری سازشوں کی تفصیلات اور ملک میں دہشت گرد حملوں کو انجام دینے میں داعش کے نظریات ، رول کے محرکات کا پتہ چلانا ہے ۔ نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی ( این آئی اے ) 2016 کے ایک کیس کی تحقیقات کررہی ہے جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ آئی ایس آئی ایس کے ارکان ، ہندوستانی مسلم نوجوانوں کی شناخت ، ترغیب دینا، شدت پسند بنانا اور ان نوجوانوں کو داعش میں شامل کرتے ہوئے ملک میں دہشت گردی واقعات کو انجام دینے کی سازش میں ملوث ہیں۔ اس کیس میں ماخوذ تین ملزمین کو این آئی اے نے گرفتار کیا ہے۔ جن میں سے دونوں کو پہلے ہی خاطی قرار دیا گیا اور انہیں7 سال جیل کی سزا سنائی گئی ہے ۔ جبکہ عدنان حسن ملزم کے خلاف کیس چل رہا ہے ۔ تفتیش کے دوران باوثوق ذرائع سے باسط کے بارے میں تازہ ان پٹ ( اہم معلومات) حاصل ہوئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ باسط کے عدنان حسن کے ساتھ روابط تھے ۔ اور اس کے چند حامی، باقاعدگی کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ ربط میں تھے ۔ وہ مبینہ طور پر داعش کی سرگرمیوں کو انجام دینے کی سازش کررہے تھے ۔ جبکہ اس دہشت گرد تنظیم کو ہندوستان میں ممنوعہ قرار دیا جاچکا ہے ۔ این آئی اے کے ترجمان نے یہ بات کہی ۔ مرکز کی اس ایجنسی نے 6؍ اگست کو شہر کے مختلف7مقامات پر یکساتھ دھاوے منظم کئے تھے ۔ اس دوران یہ تازہ جانکاری ملی ۔ ان دھاؤں کے دوران قابل ثبوت جرم مواد بھی برآمد کیا گیا جسے ضبط کرایا گیا ۔ اس مواد کو تجزیہ کیلئے سی ایف ایس ایل حیدرآباد بھجوایا گیا ۔ یو این آئی کے بموجب دو ملزمین عبداللہ باسط اور عبدالقدیر اور ان کے ساتھی مبینہ طور پر داعش کے ساتھ روابط رکھے ہوئے تھے ان پر ملک میں دہشت گردانہ حملوں کی سازش رچنے کا بھی الزام ہے۔ محمد عبداللہ باسط ‘ حافظ بابا نگر کا رہنے والا ہے جبکہ عبدالقدیر شہر کے چند رائن گٹہ کا متوطن بتایا گیا ہے۔

جواب چھوڑیں