تین طلاق مرممہ بل ‘واپس لیا جائے یا سلیکٹ کمیٹی سے رجوع کیا جائے: پرسنل لا بورڈ

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ایک سینئر عہدیدار نے آج کہا ہے کہ تین طلاق (مرممہ )بل کو یا تو واپس لے لیا جانا چاہیے یا پھر پارلیمنٹ کی سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجا جانا چاہیے ۔ اس بل کے تعلق سے اسلامی اسکالرس (علمائے دین) کی رائے حاصل کی جانی چاہیے ۔ مسلم خواتین (تحفظ ِ حقوق بر شادی) بل 2017ء (تین طلاق بل) کو لوک سبھا نے دسمبر 2017ء میں منظور کیا تھا ۔ گذشتہ 10 اگست کو پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے آخری دن، مذکورہ مسئلہ پر سیاسی جماعتوں کے مابین اتفاقِ رائے نہ ہونے کے سبب، راجیہ سبھا میں یہ بل نمبر پر نہیں لیا جاسکا۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کے سکریٹری اور سوشل میڈیا ٹرسٹ انچارج محمد عمرین محفوظ رحمانی نے آج یہاں بتایا کہ ’’تین طلاق بل پر ہمارا موقف واضح ہے ۔ مرکز ، یا تو اس بل سے دستبرداری اختیار کرے یا اس کو پارلیمنٹ کی سلیکٹ کمیٹی سے رجوع کرے۔ سلیکٹ کمیٹی ، علمائے اسلام سے رائے حاصل کرے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’دنیا بھر میں‘‘ جہاں کہیں جب کبھی کسی فرقہ سے متعلق قانون وضع کیا جاتا ہے تو اس فرقہ کی رائے لی جاتی ہے ۔ مولانا رحمانی نے دعویٰ کیا کہ ’’ہمارے ملک میں ایسے اقدام سے پہلے مسلم فرقہ سے مشاورت نہیں کی گئی ۔ وہ لوگ (اربابِ حکومت) اپنی رائے مسلط کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔‘‘ یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ تین طلاق بل کی دفعات کے تحت خاطی پائے جانے والے مرد کے لیے ضمانت کی دفعہ سے متعلق ترمیمات ’’ناکافی‘‘ ہیں اور اِن (ترمیمات) سے خواتین کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ مدرسوں میں قومی پرچم لہرانے اور قومی ترانہ گانے سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مولانا رحمانی نے کہا کہ ’’یہ، مسلم پرسنل لا بورڈ کے دائرۂ کار سے باہر ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ مسلم پرسنل لا بورڈ اپنے سوشل میڈیا ڈسک کو ملک بھر میں پھیلائے گا۔ اس اقدام میں فیس بک ، ٹوئٹر ، واٹس ایپ ، یوٹیوب اور ٹیلی گرام جیسے پلیٹ فارمس کا استعمال شامل رہے گا۔ اسلام سے متعلق پیدا کیے جارہے غلط تصورات کو دور کرنے کے لیے سوشل میڈیا کو استعمال کیا جائے گا۔ مولانا رحمانی یہاں انفارمیشن ٹکنالوجی ماہرین کے ایک اجلاس کی صدارت کے لیے آئے تھے۔

جواب چھوڑیں