جامع مسجد ایوان بیگم پیٹ،15؍اگست کو عوام کیلئے کھول دی جائے گی

ایک سو سال سے زائد قدیم جامع مسجد ایوان بیگم پیٹ 15 ؍ اگست ( یو م آزادی ) کو تمام مذاہب کے افراد کے مشاہدہ کیلئے کھول دی جائے گی ۔ جس کا مقصد بین مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے ۔ اسپانش ( اسپین یا ہسپانیہ) مسجد سے مشہور یہ ہسپانوی مسلم فن تعمیر کا ایک عظیم شاہکار ہے ۔ اس ہیرٹیج مسجد کو پہلی بار15؍ اگست کو تمام مذاہب کے افراد کیلئے کھولا جارہا ہے ۔15؍ اگست کو10بجے دن تا7بجے شام تک ، بین مذہبی افراد اس تاریخی ومشہور مسجد کے فن تعمیر اور اس کی دلکشی کا مشاہدہ کرسکتے ہیں۔ میری مسجد آئیے پروگرام کے تحت جامع مسجد ایوان بیگم پیٹ کو یوم آزادی کے دن ، تمام مذاہب کے افراد کے لئے کھول دیا جائے گا ۔ یہ پروگرام ایک دن کیلئے رہے گا ۔ شہر کے بیگم پیٹ علاقہ میں موجود112 سالہ قدیم اس تاریخی مسجد کی دیکھ بھال سابق شاہی خاندان پائیگاہ کررہا ہے ۔ اس خوبصورت مسجد کو1906 میں تعمیر کیا گیا ۔ مسجد کا اندرونی حصہ انتہائی دلکش ہے ۔ مسجد کا فن تعمیر منفرد اور ہسپانوی مسلم (مورش) اور ترکی آرکیٹکچرل کا حسین امتزاج ہے ۔ پائیگاہ خاندان کے ایک رکن اور اس خوبصورت مسجد کے متولی ایم اے فیض خان نے ’’Visit may Mosque‘‘ پروگرام کے تحت تمام مذاہب کے افراد کو مسجد کے مشاہدہ کی دعوت دی ہے ۔ اس پروگرام کو متعارف کرانے کا مقصد جہاں قومی یکجہتی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے وہیں ایک دوسرے کی تہذیب اور اقدار کے بارے میں تبادلہ خیال کرنے اور ہندوستانی مسلم برادری کے کلچرل سے واقفیت حاصل کرنے کا ایک موقع فراہم کرنا ہے ۔ پائیگا کی ایک اہم شخصیت سروقار العلمائ‘1887 کے دورہ یورپ کے دوران ہسپانوی مسلم فن تعمیر سے بہت متاثر ہوئے ۔ یوروپ سے واپسی کے بعد انہوںنے اس عالیشان ومنفرد مسجد کی تعمیر کا کام شروع کیا ۔ ان کے جانشین نے اس مسجد کے کاموں کو پایہ تکمیل تک پہونچایا۔ مسجد ایوان بیگم پیٹ کو2010 میں ’’Intach‘‘ ہرٹیج کا بھی ایوارڈ دیا گیا ہے ۔ خان نے پی ٹی آئی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آج دنیا بھر میں بہت ساری غلط فہمیاں پائی جارہی ہیں ۔ بدقسمتی سے اختلافات کو ہوا دی جارہی ہے ۔ ہم نے ان بدگمانیوں اور غلط فہمیوں کے ازالہ کیلئے عوام کو ایک جگہ اکٹھا کرنے کا قدم اٹھایا ہے۔ جس کا مقصد بھائی چارہ کو فروغ دینا ہے اس کا ہر کوئی خیر مقدم کرے گا ۔ انہوں نے اس مسجد کو ایک عظیم شاہکار قرار دیا اور کہا کہ یہ ملک کی منفرد اور دلکش مسجد ہے وہ چاہتے ہیں کہ اس تاریخی ومنفرد مسجد کی دلکشی ، خوبصورتی کو عوام خود دیکھیں کہ آخر اندر کیا ہے اور یہاں کیا ہورہا ہے ۔ خان نے کہا کہ اس مسجد کے بارے میں عوام کو بہت کچھ بتانا چاہتے ہیں اور اس بارے میں عوام وضاحت ومعلومات حاصل کرسکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے کہ یوم آزادی کے موقع پر عوام، یہاں اپنا قیمتی وقت گذاریں ۔ اور ان امور پر بات چیت کرتے ہوئے خود کو بہتر محسوس کریں۔ انہوںنے کہا کہ سردست یہ پروگرام صرف ایک دن کیلئے رہے گا ۔ انڈین نیشنل ٹرسٹ فار آرٹ اینڈ کلچرل ہیرٹیج (INTACH) تلنگانہ کی کوکونیر پی انورادھا ریڈی نے کہا کہ یہ مسجد، ہر لحاظ سے علیحدہ شناخت رکھتی ہے ۔ اس مسجد کے ڈیزائن میں ترکی فن تعمیر کا عنصر بھی شامل ہے۔ اندرونی حصہ کو ترکی، خطاطی کے ذریعہ دلکش بنایا گیا ہے ۔ اس مسجد کو شہر کا قیمتی نگینہ قرار دیتے ہوئے انورادھا ریڈی نے کہا کہ مسجد کا نظارہ انتہائی دلکش ہے اس کے مینار منفرد ہیں اور ان میناروں کے مماثل گنبد ہے ۔ انورادھا ریڈی نے کہاکہ ’’ اوپن مسجد پروگرام‘‘ کے تحت وہ ماہ جون میں مہدی پٹنم کی ’’ مسجد قبائ‘‘ کا دورہ کرچکی ہیں۔ انہوںنے یوم آزادی کے دن بیگم پیٹ کی مسجد اسپانس کو تمام مذاہب کے افراد کے مشاہدہ کیلئے کھولدینے کے فیصلہ کو ایک بہترین اقدام اور نظریہ قرار دیا۔ اس سے مختلف افراد ایک دوسرے کے مذاہب کے بارے میں جان پائیں گے۔

جواب چھوڑیں