ریاست کے کئی اضلاع میں شدید بارش‘عام زندگی مفلوج

ریاست کے اضلاع منچریال، نرمل، کمرم بھیم آصف آباد اور عادل آباد کے کئی علاقوں میں اتوار کو موسلادھار بارش ہوئی۔ ان اضلاع میں جمعہ کی شب سے اتوار کی صبح تک وقفہ، وقفہ سے بارش ہوتی رہی جس کے نتیجہ میں جہاں عام زندگی معطل رہی وہیں کئی نشیبی علاقوں میں سیلاب جیسی صورتحال پیدا ہوگئی۔ تمام ذخائر آب لبریز ہوگئے۔ ندیوں اور نالوں میں طغیانی آگئی۔ منچریال کے چونا بھٹی واڑہ، سائینی کنٹہ اور دیگر نشیبی علاقوں کے عوام اپنے مکانات کو چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہوگئے۔ منچریال کے کئی مکانات میں پانی داخل ہوگیا۔ ٹاون کے کئی مقامات پر سڑکیں زیر آب آگئیں اور ٹریفک نظام متاثر ہوا۔ منچریال کے کلکٹر آر وی کرنن اور رکن اسمبلی دیواکر راؤ، بارش سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور عہدیداروں کو متاثرین کی ہر ممکن مدد کرنے کی ہدایت دی۔ کلکٹر عادل آباد ڈی دیواراجن نے ضلع مستقر کے خانہ پور علاقہ کا دورہ کیا اور مقامی افراد کو چوکس رہنے اور عہدیداروں کو ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت دی۔ بارش کے نتیجہ میں بڑے درخت گر پڑے جس کے سبب منچریال، لکشٹی پیٹ شاہراہ پر ٹریفک مسدود رہی۔ چنور، بیلم پلی اور منچریال اسمبلی حلقوں کے کئی نالوں میں طغیانی آگئی جس کے سبب کئی مواضعات کی آمد و درفت متاثر رہی۔ ذرائع نے بتایا کہ مسلس بارش کے سبب کئی جھونپڑیاں اور بوسیدہ مکامات منہدم ہوگئے تاہم کسی جانی نقصان یا کسی کہ زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ سابق ضلع عادل آباد میں کئی ذخائر آب کے پشتوں میں شگاف پڑ گئے جس کے نتیجہ میں کھیتوں میں پانی داخل ہوگیا جس سے فصلوں کو نقصان پہنچا۔ کلکٹر منچریال نے یلم پلی پراجکٹ کا معائنہ کیا جہاں مسلسل بارش کی وجہ سے اس پراجکٹ کی سطح آب میں غیر معمولی اضافہ درج کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ منچریال کلکٹریٹ میں کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے۔ کسی بھی ناگہانی صورتحال پر عوام 08736-250107 پر اطلاع دے سکتے ہیں۔ عوام پر زور دیا کہ وہ دریائے گوداوری میں نہ جائیں۔ اتوار کے روز عادل آباد اور منچریال میں بالترتیب 174 اور 140 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ سب سے زیادہ بارش 235 ملی میٹر اوٹنور میں ریکارڈ کی گئی۔ سابق ضلع کریم نگر میں بھی شدید بارش ہوئی جس کے سبب تمام ذخائر آب لبریز ہوگئے۔ تمام ندیاں، خطرہ کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہیں۔ جمی کنٹہ منڈل کا ولاس نگر برج زیر آب آگیا۔ پداپلی روڈ اور گیسٹ ہاوز کے علاقہ میں بھی پانی داخل ہوگیا۔ ضلع پداپلی کے گوداوری کھنی میں آٹو رکشہ ڈرائیور کا مکان منہدم ہوگیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ایک درخت، اس مکان پر گر پڑا جبکہ مسلسل بارش کے نتیجہ میں ایم سرینواس کا مکان منہدم ہوگیا۔ رام گنڈم علاقہ کے کوئلہ کی کانوں میں پانی داخل ہونے سے کوئلہ کی نکاسی کا عمل متاثر ہوا۔ سنگارینی کالریز کے عہدیداروں نے موٹر پمپوں کے ذریعہ پانی کو خارج کیا۔ سنڈیلہ بیاریج کے کاموں میں مصروف ورکرس، سیلاب میں گھر گئے، تاہم تین گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد پولیس اور محکمہ آبپاشی کے عہدیدارون نے ان ورکروں کو محفوظ مقام پر منتقل کردیا۔ طویل عرصہ کے بعد نظام آباد اور کاماریڈی اضلاع میں بھی شدید بارش کی اطلاعات ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران نظام آباد اور کاماریڈی اضلاع میں بالترتیب 8.6 سنٹی میٹر اور 5.8 سنٹی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ آرمور منڈل میں سب سے زیادہ 13.62 سنٹی میٹر بارش ہوئی۔ بودھن ڈویژن میں برہمن پلی کا تالاب لبریز ہوگیا اور پشتہ کے اوپر سے پانی بہنے لگا۔ ضلع کاماریڈی میں بھی مسلسل بارش سے کئی ذخائر لبریز ہوگئے۔

جواب چھوڑیں