شام کے حلب اور اِدلب میں فضائی حملوں کے بعد خاموشی

شام کے دو صوبوں اِدلب اور حلب میں سلسلہ وار فضائی حملوں کے بعد اب خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ حملوں میں کے نتیجے میں 28 بچوں سمیت 53 شامی جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو گئے۔شامی حکومت کی فوج کی جانب سے اِدلب کے مغربی دیہی علاقے میں جسر الشغور شہر کے نزدیک اپنی فورسز کو اکٹھا کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس دوران عالمی برادری گنجان آباد صوبے میں ممکنہ لڑائی کی انسانی صورت حال پر اثرات کے حوالے سے تشویش کا شکار ہے۔اِدلب کے معاملے نے تہران اور ماسکو کے مواقف کے درمیان اختلاف کو ظاہر کر دیا ہے۔ ایران اور روس ترکی کے ساتھ مل کر یہاں سیف زون کے معاہدے پر دستخط کر چکے ہیں۔ ایران نے بشار حکومت کو حملے میں جلدی کرنے کے لیے جوش دلا دیا جب کہ روس سفارت کاری کے میدان کو کشادہ کرنے کو ترجیح دے رہا ہے۔ایسے وقت میں جب کہ شامی اپوزیشن کی فورسز اپنی صفوں کو منظّم کر ہی ہے، یہ سوال بھی سامنے آ رہا ہے کہ آیا اِدلب صوبے پر بڑے حملے کو روکنے کے لیے ترکی کی کوششیں بار آور ثابت ہوں گی۔ صوبے میں نگرانی کے 12 مقامات پر ترکی کی فوج تعینات ہے۔

جواب چھوڑیں