قومی اسمبلی کی 158 نشستوں کے ساتھ تحریک انصاف سب سے بڑی جماعت

پاکستان کی نو منتخبہ پارلیمنٹ کا کل پہلی مرتبہ اجلاس منعقد ہورہاہے تاکہ نئی حکومت کو اختیارات کی منتقلی اور ان کی حوالگی کی کاروائی شروع کی جائے ۔ صدر ممنون حسین نے قبل ازیں ایوان زیریں قومی اسمبلی کا اجلاس پارلیمنٹ میں ہاوز میں کل صبح10بجے طلب کیاتھا ۔ قانون کے مطابق سابق اسپیکر اسمبلی ایاز صادق نئے قانون سازوں کو حلف دلائیں گے ۔ بعدازاں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کاانتخاب عمل میں آئے گا ۔ نئے اسپیکر کے انتخاب کے بعد سبکدوش ہونے والے اسپیکر انہیں حلف دلائیں گے اور نئے ایوان کی ذمہ داریاں تفویض کریں گے ۔ امکانی وزیراعظم عمران خان ( پی ٹی آئی) واحد سب سے بڑی جماعت کی حیثیت سے منظر عام پر آئی ہے جسے 25 جولائی کے انتخابات میں 116 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔9 آزاد امیدوار اس میں شامل ہوگئے جس کے بعد نشستوں کی تعداد125 تک بڑھ گئی ۔ پی ٹی آئی قطعی عددی طاقت 158 تک پہنچ گئی ۔ قبل ازیں اسے خواتین کیلئے محفوظ 60کے منجملہ 28 نشستیں دی گئی تھیں ۔ پارٹی کو اس وقت بھی ایوان میں 172 کی سادہ اکثریت کے لیے 14 نشستوں کی کمی کا سامناہے جبکہ ایوان میں نشستوں کی تعداد342 ہے ۔ پارٹی کو متعدد چھوٹی پارٹیوں کی تائید حاصل ہے اور توقع ہے کہ اسے اسپیکر ‘ڈپٹی اسپیکر اور وزیراعظم کے انتخاب میں کم از کم 180 قانون سازوں کی تائید حاصل ہوگی ۔ علحدہ موصولہ اطلاع کے بموجب پاکستان میں الیکشن کمیشن نے قومی و صوبائی اسمبلیوں میں خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص 221 نشستوں پر ارکان اسمبلی کے نوٹی فکیشن جاری کر دیے۔ پاکستان تحریک انصاف 158 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے۔اعلان کے مطابق، قومی اسمبلی میں 60 خواتین اور 10 غیر مسلموں کی نشستیں شامل ہیں۔بتایا گیا ہے کہ قومی اسمبلی میں خواتین کی 60 مخصوص نشستوں میں سے تحریک انصاف کو 28، مسلم لیگ (ن) کو 16، پیپلز پارٹی کو 9، متحدہ مجلس عمل کو 2 نشستیں ملیں۔ گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس، ایم کیو ایم پاکستان، ق لیگ، بی اے پی، بی این پی کے حصے میں خواتین کی ایک ایک مخصوص نشست ا?ئی ہے۔قومی اسمبلی میں اقلیتوں کے لیے 10 مخصوص نشستوں میں سے تحریک انصاف کو 5 نشستیں مل گئیں، جب کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو 2،2 اور ایم ایم اے کو 1 نشست ملی۔الیکشن کمیشن نے اب تک قومی اسمبلی کے 342 میں سے 339 حلقوں کے نوٹی فکیشن جاری کردیے ہیں، جس کے بعد پارٹی پوزیشن بھرپور طریقے سے واضح ہوگئی ہے۔قومی اسمبلی میں تحریک انصاف 158 نشستوں کے ساتھ سب سے ا?گے ہے جب کہ مسلم لیگ (ن) 82 نشستوں کے ساتھ دوسرے، پیپلز پارٹی 53 نشستوں کے ساتھ تیسرے، متحدہ مجلس عمل 15 نشستوں کے ساتھ چوتھے، متحدہ قومی موومنٹ 7 نشستوں کے ساتھ پانچویں، مسلم لیگ (ق) 5 نشستوں کے ساتھ چھٹے، بلوچستان عوامی پارٹی 5 نشستوں کے ساتھ ساتویں اور بلوچستان نیشنل پارٹی چار نشستوں کے ساتھ ا?ٹھویں نمبر پر ہے۔جی ڈی اے نے قومی اسمبلی میں کل 3 نشستیں حاصل کیں جب کہ عوامی نیشنل پارٹی، عوامی مسلم لیگ اور جمہوری وطن پارٹی نے ایک ایک نشست حاصل کی ہے.صوبوں کی بات کی جائے تو پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف 179 نشستوں کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے جس پر اسے پنجاب اسمبلی میں خواتین کے لیے 33 اور اقلیتوں کے لیے 4 مخصوص نشستیں مل گئیں۔ مسلم لیگ (ن) 164 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے اسے 30 خواتین اور 4 اقلیتی نشستیں ملیں۔ مسلم لیگ (ق) 10 نشستوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے اسے 2 خواتین اور 8 اقلیتی نشستیں ملیں۔ پیپلز پارٹی 7 نشستوں کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے اسے خواتین کی 1 اور 6 اقلیتی نشستیں ملیں۔سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی 97 نشستوں کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے جس پر اسے خواتین کی 17 اور اقلیتوں کی 5 مخصوص نشستیں مل گئی ہیں۔ اسی طرح تحریک انصاف 30 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے اسے خواتین کی 5 اور اقلیتوں کی 2 مخصوص نشستیں ملیں۔ ایم کیو ایم پاکستان 21 نشستوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے اسیخواتین کی 4 اور اقلیتوں کی 1 نشست ملی۔ سندھ اسمبلی میں جی ڈی اے 13 نشستوں کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے اسے خواتین کی 2 اور اقلیتوں کی 1 نشست ملی۔ سندھ اسمبلی میں تحریک لبیک خواتین کی 1 مخصوص نشست ملا کر 3 نشستوں کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہے۔ سندھ اسمبلی میں ایم ایم اے صرف 1 جنرل نشست حاصل کرسکی۔

جواب چھوڑیں