مودی چار برس کی تین کامیابیاں نہیں بتاسکے: کانگریس

کانگریس نے وزیراعظم نریندر مودی کے ترقی کے دعوے کو ایک اور ’جملہ‘ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ وزیراعظم اعداد و شمار سے کھیل کر ملک کو گمراہ کررہے ہیں اور اپنی حکومت کے چار برس کے کام کی تین کامیابیاں نہیں گنا پارہے ہیں۔کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا نے اتوار کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ خصوصی پریس کانفرنس میں کہاکہ مودی میڈیا کے سوالات سے ڈرتے ہیں اس لئے چار برس میں اب تک ایک بھی پریس کانفرنس نہیں کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیراعظم میڈیا کے کچھ حصوں میں انٹرویو دے رہے ہیں لیکن بات کرنے سے پہلے پوچھے جانے والے سوالات کے بارے میں معلوم کرلیتے ہیں۔ کھیڑا نے وزیراعظم کے حالیہ دو انٹرویو کا ذکرکرتے ہوئے کہاکہ اس دوران جب ان سے حکومت کے چار برس کی مدت کار کی تین کامیابیاں بتانے کے لئے کہا گیا تو مودی نے یہ کہتے ہوئے ٹال دیا کہ اگر تین ہی کامیابیاں بتائیں گے تو باقی رہ جائیں گی اس لئے اس بارے میں کچھ نہیں بولیں گے۔ترجمان نے کہاکہ اب تک پورا ملک کہہ رہا تھا کہ مودی حکومت کی چار برس کے کام کاج میں کوئی کامیابی نہیں ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ساتھ ملک کے عوام اور میڈیا بھی یہ الزام لگارہا تھا کہ مودی حکومت کی کامیابیاں کچھ نہیں ہیں لیکن اب خود وزیراعظم ہی اپنی حکومت کی محض تین کامیابیاں نہیں بتا پارہے ہیں۔ انہو ں نے ایک طرح سے اعتراف کرلیا کہ ان کی حکومت نے کچھ کام نہیں کیا ہے۔ وزیراعظم چار برس کی کامیابیاں نہیں بتاپارہے ہیں بلکہ 2022تک کی بات کررہے ہیں جبکہ آئین نے انہیں یہ حق دیا ہی نہیں ہے۔کانگریس کے ترجمان نے ترقی کو مودی حکومت کا ایک اور ’جملہ‘ قرار دیتے ہوئے کہاکہ چار برس پہلے تک مودی مسلسل ترقی کی بات کرتے تھے۔ 60برس میں جوکام نہیں ہوا وہ تمام ترقیاتی کام چار برس میں کرنے کی بات کر تے تھے۔ ترقی کے گجرات ماڈل کی خوب تشہیر کی گئی لیکن مرکز میں جب سے ان کی قیادت میں حکومت بنی ہے تب سے کسی بھی اسمبلی انتخابات میں انہوں نے ترقی کی بات نہیں کی۔ یہاں تک کہ گجرات اسمبلی انتخابات میں ترقی کے ماڈل کا کوئی ذکر نہیں ہے۔انہوں نے مودی پر اعدادو شمار سے کھیلنے کا الزام لگاتے ہوئے کہاکہ ایک انٹرویو میں وہ اعداد وشمار کو نہیں کام کو اہم بتاتے ہیں اور دوسرے انٹرویو میں دعوی کرتے ہیں کہ ان کی حکومت نے ایک کروڑ ملازمتیں دستیاب کرائی ہیں۔اصلیت یہ ہے کہ نوٹوں کی منسوخی کے بعد سے غیرمنظم شعبہ میں سوا کروڑ سے زیادہ لوگوں کی ملازمتیں گئی ہیں۔ یہ ایک عالمی ادارہ کے اعدادو شمار ہیں۔ بین الاقوامی لیبرآرگنائزیشن نے ہندوستان میں 2019تک بڑے پیمانہ پرملازمتیں جانے کا اندازہ ظاہر کیا ہے۔ کھیڑا نے قومی شہریت رجسٹر (این آر سی) معاملہ پر مودی حکومت پر سیاست کرنے الزام لگاتے ہوئے کہاکہ وزیر مملکت برائے داخلہ کرن رجیجو اور خارجہ کے وزیر مملکت ایم جے اکبر کہتے ہیں کہ بنگلہ دیشی واپس نہیں ہوں گے جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی لوگوں سے کہتی ہے کہ واپس ہوں گے۔ اسی معاملہ پر حکومت پارلیمنٹ اور اور عدالت میں کچھ اور ہی بات کہتی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت اس معاملہ پر غیریقینی کی حالت میں ہے۔

جواب چھوڑیں