ورون گاندھی نے گزشتہ نو برسوں سے پارلیمنٹ سے اپنی تنخواہ نہیں لی

گاندھی خاندان سے تعلق رکھنے والے اور اکثر تنازع کاشکار رہنے والے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ورون گاندھی کی ایک خوبی نے نہ صرف تمام اراکین پارلیمنٹ کو حیران کردیا ہے بلکہ دوسروں کے لئے سیاست میں ایک نادر مثال بھی قائم کی ہے۔سنجے اور مرکزی وزیر مینکا گاندھی کے بیٹے ورون گاندھی نے بار بار مالدار اور صاحب ثروت اراکین پارلیمنٹ سے یہ اپیل کی ہے کہ وہ پارلیمنٹ سے اپنی تنخواہ نہ لیں تاکہ ان پیسوں کو ملک کی ترقی اور غریبوں کی فلاح و بہبود کے کام میں لایا جاسکے۔ اس کے لئے انہوں نے ایک مثال پیش کی ہے اور گزشتہ نو برسوں سے تنخواہ کے نام پر پارلیمنٹ سے ایک پیسہ بھی نہیں لیا ہے۔ورون گاندھی نے یہ مثال پیش کرنے کے بعد ہی اراکین پارلیمنٹ سے اپیل کی تھی کہ جو لوگ صاحب حیثیت ہیں وہ اپنی تنخواہ نہ لیں۔اترپردیش کے سلطان پور حلقہ سے رکن پارلیمنٹ ‘ ورون اپنے حلقے میں غریبوں کی فلاح و بہبود کے لئے کئی کام کئے ہیں۔ وہ پارلیمنٹ میں عوامی فلاح و بہبود کے مسائل پر بحث نہ ہونے اور اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہ میں اضافہ پر بھی تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ پارلیمنٹ میں عوامی فلاح بہبود کے موضوع اورغریب اور پسماندہ کے مسائل پر زیادہ سے زیادہ بات ہونی چاہئے۔ ورون گاندھی ہمیشہ عدم مساوات خواہ وہ اقتصادی سطح پر یا ہو سماجی سطح پر یا تعلیمی سطح پر اسے دور کرنے پر زور دیتے رہے ہیں۔وہ بار ہا تعلیم پر جی ڈی پی کا زیادہ حصہ خرچ کرنے پر زور دیتے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ بہت سے ملک جی ڈی پی کا 11فیصد خرچ کرتے ہیں جب کہ ہمارے یہاں صرف ایک فیصد حصہ خرچ ہوتا ہے۔

جواب چھوڑیں