کیرالا میں بارش کا دوبارہ آغاز‘راحت کاری سرگرمیوں میں رکاوٹ

مرکزی وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ نے آج کیرالا کے دوسیلاب زدہ اضلاع کا فضائی سروے کیا۔انہوں نے کہا کہ ریاست کی صورتحال انتہائی سنگین ہے۔ انہوں نے ریاستی حکومت کو تیقن دیاکہ مرکز اس کی بھرپور مدد کرے گا۔ وہ اضلاع اِڈوکی اور ارناکلم کا فضائی سروے کرنے کے بعد کوچی ایرپورٹ پر اخباری نمائندوں سے بات چیت کررہے تھے۔ علحدہ اطلاع کے بموجب مختصر سے وقفہ کے بعد آج صبح سے کیرالا کے متعدد علاقوں میں شدید بارش کا آغاز ہوگیا ہے جس سے اِس وقت جاری راحت کاری کارروائیوں کیلئے مسائل پیدا ہوگئے ہیں‘ جبکہ بچائو کارروائیاں سیلاب زدہ اور زمینی تودے کھسکنے والے علاقوں میں کام کررہی ہیں۔ تاہم ایڈوکی اور اداملایار ذخائر آب کی سطح آب میں کمی ہوئی ہے جس سے عوام کو کسی قدر راحت ہوئی ہے۔ عہدیداران نے بتایاکہ پانی کے بہائو کے علاقوں میں رہنے والے عوام کیلئے تشویش کی کوئی بات نہیں ہے۔ اُنہوںنے بتایاکہ کل سے کسی بھی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی ہے اور ب8اگست سے موجودہ مانسون کے غیض وغضب کی شروعات سے اس سے مربوط واقعات میں مہلوکین کی تعدداد37رہی ہیں۔ مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ چند سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے چیف منسٹر پینارائی وجین سے تبادلہ خیال کریں گے جو کوچی میں کیمپ قائم کئے ہوئے ہیں۔ بتایاگیا ہے کہ 60ہزار سے زائد افراد کو مختلف علاقوں میں قائم کردہ راحت کیمپس میں جگہ دی گئی ہے جن میں وائند بھی شامل ہے جہاں 14ہزار سے زائد افراد کو پناہ دی گئی ہے۔ دفاعی ذرائع نے بتایاکہ فوج کی10ٹکڑیاں جن میں مدراس رجمنٹ یونٹ بھی شامل ہے جن میں بحریہ ‘ فضائیہ اور این ڈی آر ایف کے سپاہی شدید متاثرہ اضلاع بشمول کوزی کوٹ‘ ایڈوکی‘ ملاپورم‘ کنور اور ویانند میں بچائو اور راحت کاری کارروائی عمل میں لارہے ہیں۔ پہاڑی ضلع ویانند کے ویتیری اور منند تھاوڈی کا دیگر علاقوں سے تعلق بالکل منقطع ہوگیا ہے اور وہاں سڑکیں بہہ گئی ہیں اور مکانات میں پانی جمع ہوگیا ہے۔ ایڈوکی ڈیم میں پانی کی سطح آج صبح 10بجے 2399.16فٹ تک کم ہوگئی ہے‘ جبکہ ایشیاء میں یہ سب سے بڑا کماندار ڈیم ہے جس کا ا فتتاح 26سال بعد عمل میں آیا۔ قبل ازیں اِس کی سطح آب 2043فٹ تھی ۔ کل ریاست کے متعدد علاقوں میں کچھ دیر کیلئے بارش سے راحت رہی ۔تاہم تازہ شدید بار ش سے راحت کاری سرگرمیاں اب دشوار ہوگئی ہیں۔ نیشنل ڈساسٹر مینجمنٹ اتھاریٹی (این ڈی ایم ا ے) نے کیرالا کے بشمول 16ریاستوں میں کل شدید تا شدید ترین متوقع بارش کی پیش قیاسی کی ہے۔ محکمہ موسمیات نے سخت چوکسی کی ہدایت دیتے ہوئے عوام کو محتاط رہنے کا مشورہ دیا ہے کیونکہ ایڈوکی‘ وائنند‘ کنور‘ ایماکولم‘ پالاکڈ اور ملاپورم جیسے اضلاع میں شدید تا انتہائی شدید بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ ریاست میں گذشتہ چنددن کے دوران بارش کے غیض وغضب میں تقریباً 1500 مکانات کو جزوی طورپر نقصان پہنچا ہے اور 101مکانات مکمل طورپر تباہ ہوگئے ہیں۔ اِس بات کا اظہار ڈزاسٹر کنٹرول روم کے عہدیداروں نے کیا۔ راجناتھ سنگھ نے اپنے ٹوئیٹر پیام میں بتایاکہ وہ ریاست کی صورتحال کے جائزہ کیلئے کیرالا جارہے ہیں ۔ اُنہوںنے بتایاکہ وہ سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے راحت کاری کیمپ کے مقامات کا بھی دورہ کریں گے۔ کل چیف منسٹر نے ایڈوکی اور وائنند کے بارش سے تباہ علاقوں کا فضائی جائزہ لیا اور بتایاکہ کیرالا میں غیر معمولی سیلاب تباہ کاری عمل میں آئی ہے اور اِس آفت سماوی سے ناقابل اندازہ مصیبت اور تباہی برپا ہوئی ہے۔

جواب چھوڑیں