گائے اور بیل کی قربانی کو برداشت نہیں کیا جائے گا:راجہ سنگھ

بی جے پی کے رکن اسمبلی راجہ سنگھ نے ایک بار پھر ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ عید الضحیٰ کے موقع پر گائے اور بیل کی قربانی کو ہم برداشت نہیں کریں گے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ تلنگانہ میں ہر تہوار، امن ویکجہتی کے ساتھ منایا جائے مگر ہم یہ نہیں چاہتے کہ ہماری ماتا گائے کی قربانی کی جائے ۔ گائے ہماری ماتا ہے ہم اس کی پوجا کرتے ہیں اس لئے مسلمانوں کو بھی چاہئے کہ گائے اور بیل کی قربانی سے گریز کریں۔ بڑے جانور کے بجائے بکرے کی قربانی کریں آج یہاں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے گوشہ محل کے بی جے پی رکن اسمبلی راجہ سنگھ نے جو اشتعال انگیز بیانات دینے کیلئے جانے جاتے ہیں، کہا کہ عید الضحیٰ کے موقع پر گائے اور بیل کی قربانی دینے کی صورت میں تلنگانہ میں بھی یو پی اور راجستھان جیسے حالات پیدا ہوں گے جس کیلئے ٹی آر ایس حکومت ذمہ دار رہے گی ۔ گائے اور بیل کی قربانی پر پس پردہ دھمکی دیتے ہوئے انہوںنے ڈی جی پی سے درخواست کی کہ خصوصی ٹیمیں تشکیل دیتے ہوئے ریاست کے مختلف علاقوں میں چھاپے مارتے ہوئے گائے اور بیلوں کو برآمد کریں ورنہ ہماری ٹیمیں، یہ کام انجام دیں گی جس پر فساد بھی ہوسکتا ہے ۔ ڈی جی پی کو قربانی کیلئے گائے اور بیلوں کو منتقل کرنے کی کوششوں کو ناکام بنانے اور مویشیوں کو تحویل میں لینے کیلئے سرکولر جاری کرنا چاہئے۔ انہوںنے کہا کہ متحدہ ریاست میں گائے اور بیلوں کی منتقلی کو روکنے کیلئے78 چیک پوسٹ قائم کئے گئے تھے مگر ٹی آر ایس دور حکومت میں ایک بھی چیک پوسٹ نہیں ہے کے سی آر پر ووٹ بینک کی سیاست کا الزام عائد کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ چیف منسٹر ، ہندوؤں کے جذبات سے کھلواڑ کررہے ہیں۔ عید الضحیٰ کے موقع پر گائے اور بیل کی قربانی پر ہم خاموش نہیں رہیں گے ۔ حالات بدترین ہوجائیں گی ، جس کی تمام تر ذمہ داری کے سی آر پر عائد ہوگی ۔ انہوںنے الزام عائد کیا کہ جی ایچ ایم سی کی جانب سے مقرر وٹرنری ڈاکٹر رشوت لیتے ہوئے صحت مند اور کم عمر گائے اور بیل کو بوڑھا اور غیر تندرست قرار دے کر انہیں ذبحہ کرنے کا صداقت نامہ جاری کررہے ہیں۔ ایسے وٹرنری ڈاکٹروں کے خلاف کاروائی ضروری ہے بصورت دیگر یہ کام ہمارے لوگ کریں گے ۔ راجہ سنگھ نے اعلان کیا کہ ہماری ٹیمیں پولیس کے تعاون سے بڑے جانوروں کو لے جانے والی گاڑیوں کو روکیں گے ۔راجہ سنگھ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ حالات کو خراب نہ کرے ، فوری اقدامات کرے ۔ موضوع سے ہٹ کر ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوںنے کہا کہ راہول کے دورہ سے کچھ نہیں ہوگا ۔ اب کانگریس کے پاس بچاکیا ہے۔ کانگریس ، مکت بھارت ہوچکی ہے ۔ عثمانیہ یونیورسٹی کے طلبہ راہول گاندھی کے مخالف ہیں کیونکہ حیدرآباد یونیورسٹی میں روہت ویمولہ کی موت کے وقت راہول گاندھی کی تقرر سے طلبہ دو گروپس میں تقسیم ہوچکے تھے ۔ ایسے شخص کو عثمانیہ یونیورسٹی میں کس طرح آنے دیا جائے گا ۔ انہوںنے کہا کہ ٹی آر ایس کی بی جے پی سے دوستی افواہ ہے۔

جواب چھوڑیں