برطانیہ کی2مساجد پر حملہ‘مقامی عوام خوفزدہ

 برطانیہ کے شہر برمنگھم میں کل رات بڑی سائز کی غلیلوں اور چھرّوں سے دومساجد کو نشانہ بنایاگیا۔ پولیس نے آج یہ بات بتائی اور کہاکہ مذکورہ مساجد کے باہر مسلح پولیس عہدیداروں کو متعین کردیا گیا ہے۔ شہر کے اسمال ہیتھ علاقہ میں ویسٹ مِڈلینڈس پولیس کو‘ مقامی وقت کے مطابق رات لگ بھگ 10:00 بجے مسجد قمر الاسلام کے پاس اور اُس کے 20منٹ بعد قریبی مسجد الہجرہ کے پاس طلب کرلیا گیا۔ پولیس نے بتایاکہ اُس کو چھرّے دستیاب ہوئے ہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ اِن چھرّوں کو غلیلوں کے ذریعہ پھینکا گیا تھا۔ نماز مغرب کے دوران ہوئے اِن حملوں سے کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ پولیس نے ایک بیان میں بتایاکہ ’’ احتیاطی اقدام کے طورپر آتشیں اسلحہ سے مسلح عہدیداروں کو متعین کردیا گیا ہے۔ موجودہ مرحلہ پر اِن حملوں کی وجہ کا علم نہیں ہوسکا‘‘۔ پولیس عہدیدار‘ مصلیوں اور مقامی افراد کی طمانیت کیلئے اِس علاقہ میں پٹرولنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مسجد قمرالاسلام کے مصلی عمران عثمان حسین نے بتایاکہ کھڑکیوں کے شیشے چکنا چور ہوجانے کے سبب لوگوں میں ’’ خوف پیدا ہوگیا ہے‘‘۔’’ ہم نے ایک زوردار آواز بھی سنی لوگ بہت خوف زدہ ہوگئے تھے۔مصلیوں نے خیال کیا کہ کسی نے اُن پر بندوق سے حملہ کیا ہے لیکن ہمیں پتہ نہیں کہ اِس حملہ کی نیت کیا تھی‘‘۔ یہاں یہ تذکرہ بیجانہ ہوگا کہ اِس واقعہ سے قبل ایک 29سالہ سوڈانی نژاد برطانوی مسلم صالح خاطر کو لندن میں دہشت پسندانہ جرائم کے شبہ پر گرفتار کرلیا گیا تھا۔

جواب چھوڑیں