میرٹھ میں ’’ پہلی ہندوعدالت‘‘ کا قیام ‘ ہندومہاسبھا کا اقدام

اکھل بھارتیہ ہندومہاسبھا نے آج کہاہے کہ تمام اضلاع میں ’’شرعی عدالتیں‘‘ کھولنے کے‘ ایک مسلم تنظیم( آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ) کے منصوبہ کے رد عمل کے طورپر یہاں اُس نے( ہندومہاسبھا نے) ’’ پہلی ہندو عدالت‘‘ قائم کی ہے۔ ہندومہاسبھا کے قومی نائب صدر اشوک شرما نے بتایاکہ ’’ ہندو عدالت‘‘ کا قیام کل یوم آزادی ہند کے موقع پر عمل میں لایاگیا۔ علیگڑھ کی ساکن پوجا شکون پانڈے اُس کی پہلی جج ہیں۔ شرما نے کہاکہ ’’ ہندوعدالت‘‘ ہندوئوں کے مابین خاندانی اور دیگر سیول تنازعات کا تصفیہ‘ دوستانہ یکسوئی کے ذریعہ کریں گی۔ اُنہوںنے کہاکہ یہ ’’ عدالت‘‘ اِس لئے قائم کی گئی ہے کہ وزیر اعظم نریندرمودی اور چیف منسٹر اترپردیش یوگی آدتیہ ناتھ نے ’’ شرعی عدالتوں‘‘ کے مسئلہ کو مسلسل نظر انداز کیا ہے۔ مہاسبھا نے قبل ازیں مذکورہ دونوں قائدین کو مکتوبات لکھے تھے اور ’’ شرعی عدالتوں‘‘ کو بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا کیونکہ ہندوستان میں صرف ایک دستور اور واحد نظام عدلیہ رہ سکتا ہے۔ ہندومہاسبھا نے حکومت سے ’’ شرعی عدالتوں ‘‘ پر امتناع عائد کرنے کی خواہش کی تھی لیکن اُس کے مکتوبات کا کوئی جواب نہیں ملا‘ تب اُس نے 15؍اگست کو ’’ پہلی ہندوعدالت‘‘ کھولی ہے۔ شرما نے کہاکہ ہندو مہاسبھا‘ آئندہ 15نومبر کو جو مہاتما گاندھی کے قاتل نتھورام گوڈسے کو پھانسی دیئے جانے کا دن ہے‘5اضلاع علیگڑھ‘ ہتھراس‘ متھرا‘ فیروز آباد‘ شکوہ آباد میں مزید 5’’ ہندوعدالتیں‘‘ قائم کرے گی۔ اُن کی تنظیم مجموعی طورپر ملک میں جلد از جلد 15’’ ہندوعدالتیں‘‘ قائم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہیں۔ پوجا شکون پانڈے نے بتایاکہ اُن کی ’’ عدالت‘‘ کو ’’ شرعی عدالتوں کی طرح‘‘ کسی قانونی منظوری کی ضرورت نہیں ہے ۔ ’’ شرعی عدالتیں‘‘ کسی قانونی منظوری کی بغیر شرعی قوانین کے مطابق چلائی جارہی ہیں۔

جواب چھوڑیں