آپ کی بہن ، بیوی اور ماں سے چھیڑ چھاڑ کی جائے تو کیسا لگے گا؟شی ٹیموں کے چبھتے سوال

حیدرآباد:’’اگر آپ کی بہن ، بیوی، ماں سے چھیڑ خانی یا دست درازی یا عصمت دری کی جائے تو اس پر آپ کا کیا رد عمل ہوگا‘‘؟ یہ وہ چبھتا ہوا سوال ہے جو لڑکیوں اور خواتین سے چھیڑ خانی کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے جانے والوں سے حیدرآباد پولیس کی جانب سے مقرر کونسلرس کررہے ہیں ۔ عام طور پر کسی کی گرفتاری پر پولیس کی جانب سے اسے عدالت میں پیش کیا جاتا ہے جہاں سے اسے جیل کی سزا ہوتی ہے لیکن چھیڑ خانی کے واقعات کو روکنے کے لئے تشکیل دی گئی شی ٹیموں کی جانب سے چھیڑ خانی کرنے والے افراد کی ویڈیو گرافی کرتے ہوئے انہیں ثبوت کے ساتھ گرفتار کرنے کے بعد انوکھے انداز میں ماہر کونسلرس کی خدمات کے ذریعہ ان کی کونسلنگ کی جارہی ہے ۔ پولیس کی جانب سے مقرر کونسلرس چبھتے سوالات اور انوکھے انداز کے ذریعہ ان افراد کو اپنی حرکتوں سے باز آجانے کے لئے انہیں راغب کرتے ہیں ۔ ان سے عہد کروایا جاتا ہے کہ وہ دوبارہ چھیڑ خانی نہیں کریں گے ۔ ساتھ ہی ان کے گھر والوں کو بھی چھیڑ خانی کی اطلاع دی جاتی ہے تاکہ چھیڑ خانی کرنے والے شرمندہ ہو کر دوبارہ ایسی حرکتیں نہ کریں ۔ اتنا ہی نہیں پکڑے جانے والوں کی جہاں منفرد انداز میں کونسلنگ کی جارہی ہے وہیں ان کی غلطیوں کا احساس بھی دلایا جاتا ہے ۔ یہ کونسلنگ مختلف مقامات پر کی جاتی ہے جس کے بہتر نتائج سامنے آرہے ہیں ۔ شہر حیدرآباد میں ان شی ٹیموں کاآغاز اکتوبر 2014ء میں ہوا تھا تاکہ لڑکیوں کو چھیڑ خانی سے محفوظ رکھا جاسکے ۔ یہ ٹیمیں جن میں پولیس کی خاتون ملازمین بھی ہوتی ہیں ‘ سادے لباس میں دور کھڑے ہوکر بس اسٹانڈس اور پر ہجوم مقامات پر چھیڑ خانی کرنے والے افراد پر نظر رکھی جاتی ہے اور چھیڑ خانی کرنے والوں کی حرکتوں کی خفیہ طور پر ویڈیو گرافی کی جاتی ہے ۔ خاص بات یہ ہے کہ سابق میں چھیڑ خانی کی شکار خاتون یا لڑکی کو شکایت کیلئے شخصی طور پر پولیس اسٹیشن جانا پڑتا تھا تاہم اگر چھیڑ خانی کی شکار خواتین و لڑکیاں شکایت کے لئے آگے نہ بھی آئیں تو پولیس کی یہ شی ٹیمیں اپنے طور پر کاروائی کرتی ہیں کیوں کہ ان کے پاس چھیڑ خانی کا پختہ ثبوت ویڈیو کی شکل میں موجود ہوتا ہے ۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو شی ٹیموں کے قیام نے جہاں ایک طرف خواتین اور لڑکیوں میں سلامتی و تحفظ کا احساس پیدا کیا وہیں چھیڑ خانی کے واقعات میں بھی کمی آئی ہے ۔ ان ٹیموں کے کونسلرس کے ذریعہ چھیڑ خانی کرنے والوں کو ان حرکتوں سے باز رہنے کی ترغیب دی جارہی ہے ۔ چھیڑ خانی کے واقعہ کو شی ٹیموں سے ربط پیدا کرنے کیلئے کوئی خاص نمبر نہیں ہے بلکہ چھیڑ خانی کی صورت میں پولیس کنٹرول روم کا نمبر 100 ڈائل کرتے ہوئے اس کی شکایت کی جاسکتی ہے ساتھ ہی فیس بک پر شی ٹیموں کا ایک پیج بھی تیار کیا گیا ہے ۔ ان شی ٹیموں کی شہر حیدرآباد سے ہٹ کر تلنگانہ کے مختلف مقامات تک اپریل 2015ء میں توسیع کی گئی ہے جس کا بہتر رد عمل سامنے آرہا ہے کیوں کہ لڑکیوں اور خواتین کا ماننا ہے کہ چھیڑ خانی کے واقعات میں کمی ہوئی ہے ۔ پولیس کا یہ ایک قابل ستائش کام ہے جو چھیڑ خانی سے انہیں محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہورہا ہے ۔ چھیڑ خانی کرنے والوں میں اس بات کا خوف پایا جاتا ہے کہ شائد شی ٹیموں کی ان پر نظر ہے ۔ خاص بات یہ ہے کہ چھیڑ خانی کرنے والے پکڑے گئے افراد میں 14 سال سے 70 سال کی عمر کے لوگ شامل ہیں ۔

جواب چھوڑیں