بابلی کیس،چندرا بابونائیڈو کیخلاف گرفتاری وارنٹ جاری

دھرم آباد کی فرسٹ کلاس مجسٹریٹ عدالت نے جمعہ کو چیف منسٹر آندھرا پردیش این چندرا بابو نائیڈو اور دیگر15 افراد کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کردیا ہے ۔ نائیڈو کے بشمول دیگر جن قائدین کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا گیا ہے ان میں وزیر آندھرا پردیش آبی وسائل ڈی اوما مہیشور راؤ، سابق ایم پی نما ناگیشور راؤ اور دیگر شامل ہیں۔ ریاست مہاراشٹرا میں دریا ئے گوداوری پر زیر تعمیر بابلی پراجکٹ کے کاموں کو انجام دینے سے عہدیداروں کو روکنے کے کیس میں عدالت نے نائیڈو اور دیگر 15 قائدین کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا ہے ۔ یہ واقعہ2010 کو اس وقت پیش آیا تھا جبکہ نائیڈو کی قیادت میں پارٹی قائدین نے بابلی پراجکٹ کی تعمیر کے خلاف دھرم آباد مارچ کا اہتمام کیا تھا اور امتناعی احکام کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نائیڈو اور ان پارٹی قائدین نے مبینہ طور پر پراجکٹ کے مقام پر عہدیداروں کو کام کرنے سے روکا تھا ۔ فرسٹ کلاس مجسٹریٹ این آر گج بھئیے نے آئی پی سی کی مختلف دفعات324 ،353 ،338،332 اور دیگر کے تحت پولیس انسپکٹر دھرم آباد کو نائیڈو اور دیگر 15 قائدین کو گرفتار کرنے کے احکام جاری کئے ہیں اور انسپکٹر کو ہدایت دی ہے کہ وہ21 ستمبر تک نائیڈو اور دیگر ملزمین کو گرفتار کرتے ہوئے عدالت میں پیش کریں ۔ متحدہ ریاست آندھرا پردیش میں چندرا بابو نائیڈو جب قائد اپوزیشن تھے تب نائیڈو کی قیادت میں تلگودیشم پارٹی کے قائدین بابلی مقام پہنچ کر دریائے گوداوری پر پراجکٹ کی تعمیر کے خلاف احتجاج منظم کیا تھا ۔ اس وقت دھرم آباد کے عہدیداروں نے پولیس میں شکایت درج کراتے ہوئے ان قائدین کو پراجکٹ کے مقام پر جانے سے روکنے کی خواہش کی تھی ۔ تاہم نائیڈو اور ان کی پارٹی کے قائدین، مبینہ طور پر پراجکٹ کے مقام پہنچ کر عہدیداروں کو کام کرنے سے روکا تھا۔ دریں اثنا چندرا بابو نائیڈو کے فرزند نارا لوکیش نے جو ریاستی وزیر بھی ہیں، واضح کردیا کہ چیف منسٹر اے پی، عدالت میں پیش ہوں گے ۔ اپنے والد کی مدافعت کرتے ہوئے این لوکیش نے کہا کہ تلنگانہ کو انصاف دلانے کی خاطر چندرا بابو نائیڈؤ ، پارٹی قائدین کے ساتھ بابلی کی طرف مارچ کیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ مہاراشٹرا کے ایک شہری نے اس کیس کو عرصہ دراز تک زیرالتواء رکھنے کے خلاف دھرم آباد کی عدالت میں ایک درخواست داخل کی تھی۔ گذشتہ 8 برسوں سے یہ کیس زیر التواء تھا تاہم 8 سال بعد اس کیس میں نئی جان پڑنے سے سیاسی حلقوں میں ہلچل پیدا ہوگئی ہے ۔ نائیڈو کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ کی اجرائی پر تبصرہ کرتے ہوئے صدر ریاستی بی جے پی آندھرا پردیش، کنا لکشمی نارائنہ نے ان قیاس آرائیوں کو خارج کردیا کہ اس کیس کے پس پردہ نریندر مودی وزیر اعظم کا ہاتھ ہے ۔ یہاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے لکشمی نارائنہ نے کہا کہ 2013 میں عدالت نے تمام ملزمین کو نوٹسیں جاری کی تھیں اس کے باوجود ملازمین، عدالت میں پیش نہیں ہوئے جس کے بنا پر عدالت نے نائیڈو کے بشمول دیگر15قائدین کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا ہے۔ انہوںنے کہا کہ چندرا بابو نائیڈو کے خلاف کیس اس وقت درج کیا گیا تھاجب مہاراشٹرا میں کانگریس کی حکومت تھی ، گرفتاری کا وارنٹ جاری کرنے پر ٹی ڈی پی کے کئی قائدین اور وزرا نے سخت برہمی کااظہار کیا ۔ ریاستی وزیر صنعتیں امرناتھ ریڈی نے کہا کہ مرکزی حکومت کو انتقامی سیاست کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی ۔ نائیڈو کے خلاف تلنگانہ اور بی جے پی کی زیر قیادت این ڈی اے حکومت کی یہ ایک سازش ہے۔ بی جے پی مہیلا مورچہ کی قومی صدر ڈی پورندیشوری نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے صاف کہا کہ گرفتاری کے وارنٹ کی اجرائی میں بی جے پی کا کوئی رول نہیں ہے ۔ انہوںنے سوال کیا کہ عدالت نے گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا ہے تو پھر کس طرح اس کیلئے بی جے پی کو موردالزام ٹھہرایا جاسکتا ہے۔

جواب چھوڑیں