بوہرہ مسلمانوں کی ایمانداری قابل ستائش : مودی

وزیراعظم نریندر مودی نے جمعہ کے دن بوہرہ مسلم برادری کی ستائش کی کہ وہ بقائے باہم کا پیام دنیا بھر میں پھیلارہی ہے۔ انہوں نے شہادت ِ امام حسینؓ کے سلسلہ میں یہاں ایک تقریب میں شرکت کی۔ بوہرہ فرقہ کے روحانی رہنما سیدنا مفضل سیف الدین کے ساتھ مدھیہ پردیش کے اندور کی سیفی مسجد میں دوران تقریب مودی نے بوہرہ برادری کے دیانتدارانہ کاروبار کے کلچر کی بھی ستائش کی۔ بوہرہ برادری کا شمار شیعہ فرقہ میں ہوتا ہے اور یہ برادری تجارت و کاروبار میں اپنی مہارت کے لئے جانے جاتی ہے۔ عشرہ مبارکہ کے لئے مسجد پہنچنے پر سیدنا نے وزیراعظم کا خیرمقدم کیا۔ مودی نے فرقہ بواہیر کے رہنماؤں اور ماننے والوں سے خطاب میں کہا کہ واسودیوا کٹمبکم (دنیا ایک کنبہ ہے) کا تصور ہندوستان کی بہت بڑی طاقت ہے۔ وہ اسے دوسروں سے ممتاز بناتا ہے۔ بوہرہ برادری اپنے کام کے ذریعہ اس تصور سے دنیا کو واقف کرارہی ہے۔ مودی نے کہا کہ ہمیں اپنے ماضی پر فخر ہے۔ ہم اپنے حال میں یقین رکھتے ہیں اور اپنے روشن مستقبل کے تعلق سے پراعتماد ہیں۔ چیف منسٹر مدھیہ پردیش شیوراج سنگھ چوہان نے بھی شرکت کی۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں سوچھ بھارت‘ میک اِن انڈیا اور جی ایس ٹی جیسی اسکیموں کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ بوہرہ برادری کے لوگوں نے ان اسکیموں سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا ہے کیونکہ یہ لوگ دنیا بھر میں ایمانداری کے ساتھ تجارت و کاروبار کرنے لئے جانے جاتے ہیں۔ بوہروں نے دوسروں کے لئے دیانتدارانہ تجارت کی مثال قائم کی ہے۔ اسی کے ساتھ مودی نے کہا کہ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں بعض لوگ فراڈ کو بزنس سمجھتے ہیں۔ مودی نے کہا کہ ایماندار تاجروں کی حوصلہ افزائی جی ایس ٹی اور دیوالیہ قانون جیسے اقدامات کے ذریعہ کی جارہی ہے۔ وزیراعظم نے تعریف کی کہ داؤدی بوہروں نے سوچھ بھارت ابھیان کو کامیاب بنایا ہے۔ مودی نے بوہرہ فرقہ کے پچھلے سیدنا ‘ محمد برہان الدین سے مہاتما گاندھی کی قربت کا تذکرہ کیا اور کہا کہ سیدنا سے مہاتما گاندھی کی ملاقات ٹرین کے سفر میں ہوئی تھی اور یہ دونوں اچھے دوست بن گئے تھے۔ ڈانڈی مارچ کے دوران گاندھی جی نے ڈانڈی کے سیفی وِلا میں قیام کیا تھا۔ اس عمارت کو بعد میں قوم کے نام معنون کردیا گیا تھا۔ چیف منسٹر مدھیہ پردیش شیوراج سنگھ چوہان اور موجودہ سیدنا نے بھی خطاب کیا۔ آئی اے این ایس کے بموجب داؤدی بوہرہ برادری تک رسائی کی کوشش میں وزیراعظم نریندر مودی نے جمعہ کے دن کہا کہ ہندوستان دنیا کو ایک کنبہ مانتا ہے ۔ وہ ہر ایک کو ساتھ لے کر چلتا ہے اور اس کی یہی خصوصیت اسے دیگر ممالک سے ممتاز کرتی ہے۔ اندور کی سیفی مسجد میں داؤدی بوہروں کے زیراہتمام عشرہ مبارکہ میں وزیراعظم نے بوہروں کی ایمانداری کی تعریف کی اور کہا کہ اس برادری نے ہندوستان کی ترقی میں اہم رول ادا کیا ہے۔ وزیراعظم نے حضرت امام حسینؓ کی شہادت کے حوالہ سے کہا کہ امام ؓ ہمیشہ ناانصافی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے امن کے لئے شہادت پائی۔ بوہروں نے امام حسینؓ کا پیام دنیا بھر میں پہنچایا ہے اور یہ پیام آج کی دنیا میں بڑی معنویت رکھتا ہے۔ مودی نے سیدنا مفضل سیف الدین کے کاموں کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت ایماندار تاجروں کی حوصلہ افزائی کررہی ہے۔ گذشتہ 4 برس میں ان کی حکومت یہ واضح پیام دینے میں کامیاب رہی کہ تجارت ازروئے قانون کی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ تاجر اور کاروباری لوگ معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔ یہ لوگ روزگار پیدا کرنے کا اہم یونٹ ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کی ممکنہ حد تک مدد کی جارہی ہے لیکن یہ بات بھی سچ ہے کہ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں۔ سماج میں ایسے لوگ بھی ہیں جو بے ایمانی کو بزنس سمجھتے ہیں۔ مودی نے کہا کہ بوہروں سے ان کا رشتہ پرانا ہے۔ گجرات کی چیف منسٹری کے دوران بوہروں نے ان کی مدد کی تھی۔ مودی نے کہا کہ یہ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے ہمیشہ آپ لوگوں کا پیار ملتا ہے۔ گجرات میں شاید ہی کوئی ایسا گاؤں ہوگا جہاں بوہرہ بزنس مین نہیں ہوگا۔ میں جب چیف منسٹر تھا بوہروں نے ہر قدم پر میری مدد کی تھی۔ بوہروں نے پانی کا مسئلہ حل کرنے میں حکومت گجرات کی مدد کی تھی۔ اندور کے حوالہ سے وزیراعظم نے کہا کہ یہ شہر صفائی کی مہم میں لیڈر ہے۔ بھوپال نے بھی اچھا کام کیا ہے۔

جواب چھوڑیں