جذام کے مریضوں کی بازآبادکاری ۔سپریم کورٹ کی مرکز اور ریاستوں کو ہدایت

سپریم کورٹ نے آج مرکز کو ہدایت دی کہ وہ جذام سے متاثر افراد کے لیے علیحدہ معذوری کے سرٹیفکیٹ تیار کرنے پر غور کرے اور ان کے لیے مختلف بہبود کی اسکیمات میں تحفظات فراہم کیے جائیں۔ ایک بنچ جو چیف جسٹس دیپک مشرا اور جسٹس اے ایم کھنویلکر اور ڈی وائی چندر چوڑ پر مشتمل ہے ، نے مرکز اور تمام ریاستوں کو ہدایت جاری کیا کہ وہ جذام کے انسداد کے لیے کام کرے اور مرض میں مبتلا افراد کی بازآبادکاری کے اقدامات کیے جائیں۔ خانگی اور سرکاری اسپتالوں میں طبّی عملہ کو اس بات سے واقف کرائیں کہ جذام کے مریضوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا نہ رکھا جائے۔ عدالت ِ عظمیٰ نے مزید کہا شعور بیداری مہم کا آغاز کیا جائے ، تاکہ جذام کے مریضوں کو یکا و تنہا نہ کیا جائے اور انہیں بھی عام شادی شدہ زندگی گذارنے کا موقع دیا جائے ۔ عدالت نے مرکز اور ریاستوں سے کہا ہے کہ وہ ایسے قوانین تیار کریں جس سے سرکاری اور خانگی اسکولوں میں جذام سے متاثر خاندانوں کے ساتھ امتیاز نہ برتا جائے ۔ عدالت ِ عظمیٰ نے 5 جولائی کو مرکز کو ہدایت دی تھی کہ وہ ایک جامع کارروائی کا منصوبہ تیار کرے ، تاکہ ملک سے جذام کے انسداد کو یقینی بنایا جاسکے اور کہا کہ قابل علاج مرض سے کسی اور لوگوں کو متاثر نہ ہونے دیا جائے ۔ بنچ مفادِ عامہ کی ایک درخواست پر سماعت کررہی تھی ، جسے ایڈوکیٹ پنکج سنہا نے داخل کیا تھا ، جس میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت ، مرض کے انسداد کے لیے مناسب اقدامات نہیں کررہی ہے۔ ایڈیشنل سالیسٹر جنرل پنکی آنند ، مرکز کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے کہا کہ حکومت منفی موقف اختیار نہیں کررہی ہے ، جیسا کہ درخواست میں اہم مسائل کے تعلق سے کہا گیا ہے ۔ قبل ازیں بنچ نے مرکز سے کہا تھا کہ وہ ملک سے جذام کے انسداد کے پروگرام اور اس پر عمل آوری کے خاکہ کے ریکارڈ کو پیش کیا جائے ۔

جواب چھوڑیں