دوحہ دہشت گردی کے معاونین کی جنت،الجزیرہ انتہاپسندوں کی آواز : اماراتی سفیر

 امریکہ میں متعیّن متحدہ عرب امارات کے سفیر یوسف العتیبہ نے الجزیرہ ٹیلی ویڑن چینل کو خطے میں انتہا پسندوں کا ’’ صوت المکبر‘‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ دوحہ امریکہ اور اقوام متحدہ کی جانب سے دہشت گردی کے مالی معاون قرار دیے گئے افراد کی محفوظ جنت ہے۔ انھوں نے یہ باتیں امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں جمعرات کو شائع شدہ اپنے ایک مضمون میں لکھی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:’’ متحدہ عرب امارات یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف لڑرہا ہے جبکہ قطر ایران کو مختلف شعبوں میں مدد کی پیش کش کررہا ہے‘‘۔ انھوں نے لکھا:’’ قطر نے عراق میں اغوا کیے گئے شاہی خاندان کے افراد کی بازیابی کے لیے ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب اور دوسرے انتہا پسندوں کو براہ راست کروڑوں ڈالرز ادا کیے تھے۔یمن میں قطر کے خیراتی ادارے عید چیرٹی نے جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے رنگ لیڈر عبدالوہاب الحمیقانی کو لاکھوں ڈالرز کی رقم ادا کی تھی۔یہ صاحب اس سے پہلے قطر کی وزارتِ مذہبی امور میں بھی کام کرتے رہے تھے‘‘۔ انھوں نے دوحہ سے نشریات پیش کرنے والے قطر کے ملکیتی الجزیرہ ٹیلی ویڑن نیٹ ورک کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ خطے میں انتہا پسندوں کا صوت المکبر ہے۔قطر نے خود یہ ثابت کیا ہے کہ وہ اسلامی انتہا پسندی سے استفادہ کرنے والا ملک ہے۔ یوسف العتیبہ نے یمن میں امریکہ اور متحدہ عرب امارات کی مشترکہ کارروائیوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ان سے اس ملک میں سکیورٹی کی صورت حال بہتر ہوئی ہے اور القاعدہ کی موجودگی محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:’’ صرف تین سال قبل جزیرہ نما عرب میں القاعدہ یمن میں ہوائی گھوڑے پر سوار تھی اور اس نے ملک کے ایک تہائی علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔اس کے جنگجو یمنی شہریوں کو دہشت زدہ کررہے تھے اور امریکہ اور دوسرے بین الاقوامی اہداف کو حملوں میں نشانہ بنانے کی سازشیں کررہے تھے لیکن آج القاعدہ کی یہ شاخ 2012ء کے بعد کم زور ترین سطح پر چلی گئی ہے‘‘۔ اماراتی سفیر کا کہنا تھا کہ اس وقت یمن میں سب سے بڑا خطرہ ایران اور حوثی باغی ہیں جبکہ وہاں جاری جنگ کا خاتمہ عرب اتحاد کی اولین ترجیح ہے۔

جواب چھوڑیں