مکمل تیاریوں کے بعد ہی انتخابات منعقد ہوں گے : رجت کمار

چیف الیکٹورل آفیسر تلنگانہ ڈاکٹر رجت کمار نے آج وضاحت کی کہ تلنگانہ میں اسمبلی انتخابات، تیاری کاموں کے مکمل ہونے کے بعد ہی منعقدہوں گے تاہم انہوںنے کہا کہ تیاری کے کام تیزی کے ساتھ جاری ہیں۔ انہوںنے کہا کہ تیاری کاموں کے حصہ کے طور پر سب سے اہم کام جو الیکشن کمیشن کے پیش نظر ہے، وہ، فہرست رائے دہندگان کو اپ ڈیٹ کرنا ہے ۔ اس کے ساتھ الیکٹرانک ووٹنگ اور وی وی پی اے ٹی مشینوں کا حصول ہے ۔ ان دو اہم مسائل پر الیکشن کمیشن بھر پور توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے ۔ الیکشن کمیشن نے متذکرہ دو امور کو مدنظر رکھتے ہوئے یکم ستمبر کو ووٹر لسٹ کا مسودہ جاری کیا تھا مگر6 ستمبر کو اسمبلی تحلیل کئے جانے کے بعد فہرست رائے دہندگان پر سرسری نظر ثانی سے متعلق دوسرا مسودہ جاری کیا گیا ۔ بوتھ سطح پر فہرست رائے دہندگان کو اپ ڈیٹ کرنے کا کام جاری ہے ۔ ہر بوتھ پر متعین عہدیدار، فہرست میں ناموں کے اندراج اور شکایتوں کی عرضیاں قبول کررہے ہیں۔ اور غلطیوں کی اصلاح بھی کررہے ہیں۔ انہوںنے مزید کہا کہ وی وی پی اے ٹی مشینوں کا پہلا اسٹاک حلقہ اسمبلی آصف آباد پہنچ چکا ہے ۔ تمام اسمبلی حلقہ جات میں یہ مشینیں23 اور24 ستمبر تک پہنچ جائیں گی۔بوتھ لیول ریٹرننگ آفیسرس اور بوتھ لیول عہدیداروں کو وی وی پی اے ٹی مشینوں کی تربیت دینا ضروری ہے جبکہ عوام کو اس مشین کے تعلق سے عملی مشاہدہ کرایا جائے گا ۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کرچکا ہے کہ وہ بوتھ سطح پر اپنے ایجنٹوں کا تقرر کریں ۔ ڈاکٹر رجت کمار نے مزید بتایا کہ ڈی جی پی ، چیف سکریٹری اور اضلاع کے کلکٹرس کے ساتھ بات چیت کا عمل جاری ہے اور ان سے انتخابات کی تیاریوں میں پیش رفت کا جائزہ لیا جارہا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ ریاست کے تمام32,574 مراکز رائے دہی پر وی وی پی اے ٹی مشین اور بیالٹ یونٹس پہنچنے کے 4روز بعد ریٹرننگ آفیسرس کو ان مشینوں کو چلانے کی تربیت دی جائے گی جس کے بعد ایک ٹسٹ کا اہتمام کیا جائے گا ۔ اس ٹسٹ میں کامیاب ہونے کے بعد عملہ کو بوتھ سطح پر بطور ریٹرننگ آفیسر متعین کیا جائے گا۔ ریاست تلنگانہ میں نظم وضبط کی صورتحال سے متعلق موصولہ رپورٹ کا تذکرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر رجت کمار نے کہا کہ گذشتہ کے انتخابات میں بڑے ناخوشگوار واقعات پیش نہیں آئے تھے ۔ لیکن 7اضلاع میں کئی حساس مقامات ہیں جہاں زائد تعداد میں پولیس فورس کو متعین کیا جائے گا۔ انتخابات کے پرامن انعقاد کیلئے مرکزی اور نیم فوجی فورسس کی ضرورت رہے گی۔چیف الیکٹورل آفیسر تلنگانہ ڈاکٹر رجت کمار نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کی خواندگی کرتے ہوئے کہا کہ عدالت عظمی کی رولنگ کے مطابق کوئی بھی سیاسی جماعت ، رائے دہندوں کو لبھانے کیلئے مختلف حربوں کا استعمال نہیں کرپائے گی تاہم عوام کے اجتماعی مفاد کے تحت مراعات کا اعلان کیا جاسکتا ہے ۔ تاہم رجت کمار نے ماہ نومبر میں رعیتو بندھو اسکیم کے تحت کسانوں میں مالی امداد کی تقسیم کے مسئلہ پر کوئی بات نہیں کی ۔ اس تعلق سے سکریٹریز پر مشتمل کمیٹی فیصلہ کرے گی اور الیکشن کمیشن سے فیصلہ کی منظوری لینا پڑے گا ۔ انہوںنے کہا کہ تمام سیاستی جماعتوں نے اپنے انتخابی منشور کے مسودہ کو الیکشن کمیشن کو پیش کردیا ہے ۔ تاکہ اس انتخابی منشور کی منظوری حاصل کی جاسکے۔ یو این آئی کے بموجب چیف الیکٹورل آفیسر رجت کمار نے ساسی جماعتوں سے خواہش کی کہ وہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے بارے میں خدشات کا شکار نہ ہوں ۔ انہوںنے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ ریاست میں تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کی موجودگی میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا مشاہدہ کرایا جائے گا ۔ ملک بھر میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی کارکردگی بہترین رہی ہے ۔ عدالتوں نے بھی ان مشینوں کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔ انہوںنے کہا کہ ا لیکشن کمیشن، انتخابی مصارف پر قریبی نظر رکھے گا ۔ انتخابات میں پیسہ کی ریل پیل کو کم سے کم کرنے کیلئے ممکنہ اقدامات کئے جائیںگے ۔ جمعہ کو یہاں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ ریاست میں انتخابات کی تیاریوں کا جائزہ لینے کیلئے الیکشن کمیشن کی ٹیم دوبارہ تلنگانہ کا دورہ کرے گی۔

جواب چھوڑیں