نکاح حلالہ‘ ایسیڈ حملہ کی شکار شبنم رانی سپریم کورٹ سے رجوع

 سپریم کورٹ نے جمعہ کے دن بلند شہر کی ایک خاتون کی درخواست پر حکومت اترپردیش سے جواب مانگا جس پر ایک دن قبل ایسیڈ حملہ ہوا تھا۔ چیف جسٹس دیپک مشرا‘ جسٹس اے ایم کھنولکر اور جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ پر مشتمل بنچ نے کہا کہ وہ درخواست کی سماعت 17 ستمبر کو کرے گی۔ شبنم رانی پر جمعرات کے دن اس کے جیٹھ یا دیور نے نکاح حلالہ سے انکار پر حملہ کردیا تھا۔ اس پر حملہ اس وقت ہوا تھا جب وہ اپنے سسرال والوں کے خلاف شکایت درج کرانے جارہی تھی۔ حملہ کے بعد وہ سیکوریٹی اور علاج کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع ہوئی۔ وہ سابق میں سپریم کورٹ سے اس وقت رجوع ہوئی تھی جب شادی کے دیڑھ سال بعد اس کے شوہر نے اسے طلاق دے دی تھی۔ طلاق کے باوجود وہ بلند شہر میں اپنے سسرال میں رہ رہی ہے۔ 4 شادیوں اور نکاح حلالہ کے خلاف سپریم کورٹ میں کئی درخواستیں زیرالتوا ہیں۔ پی ٹی آئی کے بموجب سپریم کورٹ نے جمعہ کو آمادگی ظاہر کی کہ وہ نکاح حلالہ اور طلاق ثلاثہ معاملہ میں ایک درخواست گذار کی سماعت 17 ستمبر کو کرے گی۔ شبنم رانی اپنے جیٹھ یا دیور کے مبینہ حملہ کے بعد ہسپتال میں شریک ہے۔ اس نے علاج معالجہ کی بھی گذارش کی ہے۔ عدالت نے شبنم رانی کے وکیل اشونی کمار اپادھیائے سے کہا کہ وہ درخواست کی ایک کاپی مرکز اور حکومت اترپردیش کو دیں۔

جواب چھوڑیں