ہندی ، ہندوستان میں سماجی سیاسی لسانی اتحاد کی علامت : وینکیا نائیڈو

نائب صدر ایم وینکیا نائیڈو نے ہندی کو ملک میں سماجی ، سیاسی و لسانی اتحاد کی علامت قرار دیا اور انہوں نے علاقائی زبانوں میں لسانی ادب کے تراجم کی تائید کی۔ ہندی دیوس کے موقع پر منعقدہ ایونٹ کے دوران خطاب کرتے ہوئے نائیڈو نے کہا ہندی مجاہدین آزادی کے بات چیت کی اہم زبان رہی ہے اور اسے ملک کے بیشتر لوگ آسانی سے بول اور سمجھ سکتے ہیں ۔ یہ ایک سماجی ، سیاسی ، مذہبی ، لسانی ملک میں اتحاد کی علامت ہے ۔ آج بھی یہ معیار تمام زبانوں کے لیے قابل قبول ہے۔ نائب صدر نے کہا کہ تمام ہندوستانی زبانیں متحرک اور ایک دوسرے سے اپنے ادب ، لغت اور محاورے رکھتی ہیں۔ ہندی کا ترجمہ علاقائی زبانوں میں مزید ہونا چاہیے ، تاکہ تمام ہندوستانی زبانوں تک ادب کی آسانی سے رسائی ہوسکے ۔ نائیڈو نے کہا کہ یہاں بحث کا کوئی مسئلہ نہیں ہے کہ آیا ہندی تمام ہندوستانی زبانوں میں بہتر ہے، جب کہ ایسی کئی زبانیں ہیں جو کافی قدیم ہیں اور ہندی سے بھی کافی متحرک ہے۔ سنسکرت تمام زبانوں کی ماں ہے اور کئی علاقائی زبانیں بھی کافی پراثر ہیں۔ نائیڈو نے کہا کہ ہندی کو بڑی آسانی سے قبول کیا جاتا ہے اور بولا اور سمجھا جاتا ہے اور اسے کئی لوگ جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں سرکاری بہبودی اسکیمات کی عمل آوری کے لیے زبانوں کا اہم رول ہوتا ہے اور اسکیمات اسی وقت کامیاب ہوتی ہیں جب لوگ اس کے فوائد حاصل کرتے ہیں۔ اس کے لیے یہ اہم ہے کہ حکومت عوامی زبان میں کام کرے۔ اگر ہم یہ خواہش کریں کہ ہماری جمہوریت کی ترقی برقرار رہے اور مضبوط ہو تب ہمیں ہندی کو استعمال کرنا ہوگا اور اس کے لیے مرکزی حکومت اور علاقائی زبانوں میں کام کرنا ہوگا ۔ ہر ریاست کا ہندی کی ترقی میں زبردست رول ہونا چاہیے۔

جواب چھوڑیں