اتحاد کی سائیکل مل جل کر چلائی جائے گی : اکھلیش یادو کا اشارہ

سابق چیف منسٹر اترپردیش اکھلیش یادو نے آج یہ اشارہ دیا کہ 2019ء کے لوک سبھا انتخابات کے لیے سماج وادی پارٹی ۔ بی ایس پی اتحاد میں کانگریس کو بھی بشامل کیا جاسکتا ہے ۔ اترپردیش میں آئندہ پارلیمانی انتخابات کے لیے بی ایس پی کے ساتھ ان کی پارٹی کے مجوزہ اتحاد میں کانگریس کے موقف سے متعلق سوال پر اکھلیش یادو نے کہا کہ آج برقی سائیکل چل رہی ہے ، آپ دیکھ سکتے ہیں کہ مین ہٹن کی سڑکوں پر ایسی سائیکلیں چلائی جارہی ہیں ، جن کے کئی پینڈل ہیں ۔ آج کے زمانہ میں کئی لوگ بیک وقت ایک ہی سائیکل پر سواری کرسکتے ہیں اور یہ وہیں پہنچتی ہے جہاں اسے پہنچنا چاہیے ۔ یہ سائیکل مل جل کر چلائی جائے گی ۔ واضح رہے کہ سائیکل سماج وادی پارٹی کا انتخابی نشان ہے۔ سماج وادی پارٹی نے گذشتہ اسمبلی انتخابات (2017ئ) میں کانگریس کے ساتھ اتحاد کیا تھا اور یہ اتحاد بری طرح ناکام رہا تھا۔ اس کے بعد سے یہ قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں کہ آیا کانگریس مخالف بی جے پی اتحاد کا حصہ بنے گی ۔ اکھلیش یادو نے ’’انڈیا ٹو ڈے مائنڈ راکس 2018‘‘ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صدر کانگریس راہول گاندھی کے ساتھ ان کی اچھی دوستی ہے اور ہنوز برقرار ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی ان کی اور راہول گاندھی کی دوستی سے خوفزدہ ہے ۔ مدھیہ پردیش میں اسمبلی انتخابات کے لیے کانگریس اور بی ایس پی کے اتحاد اور اس میں ایس پی کی شمولیت کے امکانات سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ مدھیہ پردیش میں کون ، کس کے ساتھ صف بندی کررہا ہے ، تاہم اگر مذکورہ دونوں جماعتوں میں اتحاد ہوتا ہے تو سماج وادی پارٹی بھی اس کا حصہ بنے گی ۔ ماضی میں کٹر رقابت کے پیش نظر سماج وادی پارٹی کس طرح بی ایس پی سے اتحاد کرسکتی ہے ۔ ایس پی صدر نے کہا کہ اگر بی جے پی 40 جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرسکتی ہے تو اگر سماج وادی پارٹی بی ایس پی کے ساتھ اتحاد کرے تو اس میں کیا غلط ہے ۔ یادو خاندان میں مبینہ جھگڑوں سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ہر خاندان میں جھگڑے ہوتے ہیں ۔ ایسا کونسا خاندان ہے جس میں جھگڑا نہیں ہوتا ۔ پھر انہوں نے بظاہر وزیر اعظم نریندر مودی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک ایسا شخص جس کا کوئی خاندان ہی نہیں اس کا کس کے ساتھ جھگڑا ہوسکتا ہے ۔ بی جے پی پر تنقید کرتے ہوئے یادو نے کہا کہ بی جے پی نے ترقی کے نام پر نہیں ، بلکہ ذات پات اور مذہب کی اساس پر الیکشن لڑا ۔ بی جے پی نے ترقی کے نام پر نہیں ، بلکہ ذات پات اور مذہبی سیاست کے نام پر الیکشن جیتا ہے۔ یادو نے دعویٰ کیا کہ ملک کی عوام مایوسی کے ساتھ وزیر اعظم کی طرف دیکھ رہے ہیں ۔ مودی کو کرپشن کے نام پر عوام کو گمراہ نہیں کرنا چاہیے۔ نوٹ بندی کی وجہ سے اس برائی کی روک تھام نہیں ہوئی ہے۔ انہوںنے یوپی میں نظم و ضبط کی صورتِ حال کے بارے میں بی جے پی کے دعووں پر سوال اٹھایا اور کہا کہ اس کے دورِ حکومت میں عصمت ریزی کے کئی واقعات پیش آئے ہیں ۔ یوگی آدتیہ ناتھ کے زیراقتدار کئی انکاؤنٹر ہوئے ہیں ۔ انہوں نے بی جے پی پر الزام عائد کیا کہ وہ اکسپریس وے اور میٹرو کا سہرا بھی اپنے سر لے رہی ہے ، جو ان کے دورِ حکومت میں تعمیر کیے گئے تھے ، یا جن کی منصوبہ کی گئی تھی ۔ وزیر اعظم مودی نے میری حکومت کے تعمیر کردہ اکسپریس وے کا افتتاح کیا ۔ سماج وادی پارٹی کو اس کے کام کے لیے کبھی کریڈٹ نہیں دیا گیا۔

جواب چھوڑیں