اسرائیلی فوج کی فائرنگ ‘12 سالہ لڑکے کے بشمول 3 ہلاک

احتجاج و مظاہرہ کے دوران غزہ کی سرحد پر ہونے والی تازہ جھڑپوں میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 12 سالہ بچے سمیت 3 فلسطینی جاں بحق اور کم از کم 50 افراد زخمی ہوگئے۔حماس کی وزارت صحت کے مطابق 12 سالہ شادی عبدالعال کو غزہ کے شمالی علاقے جبالیہ میں نشانہ بنایا گیا جبکہ اس سے قبل ان کی شناخت 14 سالہ مصطفیٰ عابد ربو کے نام سے ظاہر کی گئی تھی۔وزارت صحت کا کہنا تھا کہ 2 نوجوانوں ہانی افنان اور محمد شکورا کو غزہ کے جنوبی علاقے خان یونس اور البوریج میں الگ الگ جھڑپ میں فائرنگ کرکے قتل کیا گیا۔غزہ کی سرحد پر ہونے والی تازہ جھڑپوں میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 12 سالہ بچے سمیت 3 فلسطینی جاں بحق اور کم از کم 50 افراد زخمی ہوگئے۔حماس کی وزارت صحت کے مطابق 12 سالہ شادی عبدالعال کو غزہ کے شمالی علاقے جبالیہ میں نشانہ بنایا گیا جبکہ اس سے قبل ان کی شناخت 14 سالہ مصطفیٰ عابد ربو کے نام سے ظاہر کی گئی تھی۔وزارت صحت کا کہنا تھا کہ 2 نوجوانوں ہانی افنان اور محمد شکورا کو غزہ کے جنوبی علاقے خان یونس اور البوریج میں الگ الگ جھڑپ میں فائرنگ کرکے قتل کیا گیا۔ علحدہ موصولہ اطلاع کے بموجب اسرائیلی فوجیوں نے کل غزہ کی سرحد پر مختلف واقعات میں ایک 12سالہ لڑکے سمیت 3 فلسطینیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔حماس کی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ 12 سالہ لڑکے شادی عبدل آل کو غزہ کے شمالی حصے میں گولی ماری گئی۔جب کہ 21 سالہ حانی افنا اور محمد شکور کو جنوبی غزہ اور البرج کے ساحلی علاقوں میں دو الگ الگ واقعات میں گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا۔حماس کی وزارت صحت کے بیان کے مطابق سرحد کے ساتھ مختلف علاقوں میں فلسطینیوں کے احتجاج کے دوران اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے کم ازکم 50 افراد زخمی بھی ہوئے۔غزہ میں سیکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ غزہ شہر کے قریب حماس کی ایک چوکی پر ایک اسرائیلی ٹینک نے چڑھائی کر دی۔اسرائیل کی فوج نے کہا ہے کہ غزہ کے مختلف حصوں میں ہونے والے ہنگاموں میں اندازاً 13 ہزار افراد شامل تھے۔ ان میں سے کئی لوگ ٹائر جلا رہے تھے اور کئی آتش گیر مادہ پھینک رہے تھے۔بڑے پیمانے پر احتجاج اور اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں کا یہ نیا سلسلہ 30 مارچ سے شروع ہوا تھا اور تب سے ہر جمعے کو مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔اس عرصے کے دوران اسرائیلی فائرنگ سے کم ازکم 179 فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔اسرائیل نے غزہ کی پٹی کا محاصرہ کر رکھا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ حماس کو الگ تھلگ کرنے کے لیے ایسا کرنا ضروری ہے۔ 2008 سے اسرائیل اور حماد کے درمیاں تین جنگیں ہو چکی ہیں۔انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ تقریباً 20 لاکھ آبادی کا محاصرہ ایک طرح سے اجتماعی سزا کے مترادف ہے۔

جواب چھوڑیں