امریکہ میں طاقتورسمندری طوفان ’فلورنس‘ سے شدید تباہی ‘5 ہلاک

امریکہ کے نارتھ کیرولینا میں طوفان ’فلورنس‘ کے جمعہ کو سمندر سے ٹکرانے کے بعد ہو نے والی شدید بارش اور تیز ہواؤں کی وجہ سے کافی تباہی ہوئی ہے۔طوفان کی وجہ سے اب تک چار افراد کی موت ہو گئی ہے اور معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ولمنگٹن میں طوفان کی وجہ سے درخت گرنے سے ایک خاتون اور اس کے بچے کی موت ہو گئی۔ درخت ان کے گھر پر گرا جس سیماں اور بچے کی موت ہو گئی جبکہ بچے کے والد کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔نارتھ کیرولینا کی پینڈر کاؤنٹی میں ایک خاتون کا دل کا دورہ پڑنے سے موت ہو گئی۔ طبی ٹیم نے خواتین تک پہنچنے کی کوشش کی لیکن سڑکوں پر جمع ملبے کی وجہ سے میڈیکل ٹیم عورت تک نہیں پہنچ سکی۔سمندری طوفان کے مرکز کے مطابق ولمنگٹن کے قریب ہوا کی رفتار تقریبا 150 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔طوفان کی وجہ سے ٔ7َٓلاکھ 22ہزار مکانات کو بجلی سربراہی مسدود . انتظامیہ کے مطابق طوفان کی وجہ سے لاکھوں لوگوں کو کئی ہفتوں تک بغیر بجلی کے رہنا پڑ سکتا ہے۔متعلقہ محکموں نے بحالی میں کئی ہفتے لگنے کی بات کہی ہے۔ طوفان کی وجہ سے نارتھ کیرولینا اور ساؤتھ کیرولینا میں ایک میٹر تک بارش کاامکان ظاہر کیا گیا ہے۔وائٹ ہاؤس نے جمعہ کو ایک بیان جاری کر کے کہا کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ اگلے ہفتے متاثرہ علاقے کا دورہ کر کیصورتحال کا جائزہ لیں گے۔اے ایف پی کے مطابق سمندری طوفان ‘فلورنس’ نے امریکہ کے مشرقی ساحل پر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلا دی ہے اور اب تک اس کے ہاتھوں پانچ افراد ہلاک ہیں، جب کہ لاکھوں مکانات بجلی سے محروم ہو گئے ہیں۔طوفان کی شدت کم ہو گئی ہے لیکن ماہرینِ موسمیات کے مطابق اس کی ہلاکت خیز قوت اب بھی برقرار ہے۔طوفان کو زائل ہونے میں ابھی کئی دن لگ سکتے ہیں اور اس دوران 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز و تند ہوائیں چلیں۔اب تک اس کے راستے میں آنے والے علاقے میں سے 17 لاکھ لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔سمندری طوفان کے باعث کئی عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں جبکہ اس کی وجہ سے بڑے علاقے میں طوفانی ہواؤں، موسلادھار بارشوں اور خطرناک سیلابوں کا خدشہ درپیش ہے۔شمالی کیرولینا میں ایک مکان پر درخت گرنے سے ماں اور بچہ ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ اس بچے کے والد کو زخمی حالت میں ہسپتال پہنچایا گیا ہے۔اسی طرح ایک ہوٹل کی گرتی ہوئی عمارت سے درجنوں افراد کو نکال لیا گیا۔سمندری طوفان ’فلورنس‘ کا مرکز ریاست شمالی کیرولائنا کے علاقے رائٹس ول بیچ میں ڈیڑھ سو کلومیٹر کی ہواؤں کے ساتھ داخل ہوا۔طوفان کے بیرونی حصوں نے پہلے ہی ساحلی علاقوں کو شرابور کر دیا ہے۔ نیو برن شہر میں بیسیوں لوگ امداد کے منتظر ہیں۔دس لاکھ سے زیادہ لوگوں کو علاقہ چھوڑ کر جانے کی ہدایت کی گئی ہے۔شمالی کیرولینا کے گورنر روئے کوپر نے کہا: ‘طوفان کے ابتدائی حصے پہلے ہی ہم تک پہنچ گئے ہیں لیکن ابھی اس کے کئی دن باقی ہیں۔’نیشنل ہریکین سینٹر کے مطابق طوفان کی شدت میں کمی واقع ہو رہی ہے لیکن پھر بھی طوفان شدید بارشوں کی وجہ سے بیحد خطرناک ہے۔ہنگامی ادارے فیما کے سربراہ بروک لانگ نے کہا: ‘بدقسمتی سے بارشوں سے آنے والے سیلاب سے بہت سے لوگ مارے جاتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ نشیبی علاقوں اور دریاؤں، ندیوں اور نہروں کے قریب رہنے والے زیادہ خطرے کی زد میں ہیں۔شمالی اور جنوبی کیرولائنا اور ورجنیا میں 12 ہزار لوگ ہنگامی پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ہاں آنے والے بہت سے لوگوں کو خدشہ ہے کہ جب وہ گھر لوٹیں گے تو آگے سے شاید گھر ہی موجود نہیں ہو گا، یا پھر ان کی نوکریاں ہی ختم ہو جائیں گی۔شمالی کیرولینا کے ایک شخص نے کہا کہ وہ اپنے کتے کے ہمراہ گھر پر ہی رہیں گے کیوں کہ پناہ گاہیں پالتو جانوروں کو قبول کرنے سے انکاری ہیں۔

جواب چھوڑیں