معیشت کی تیزرفتار ترقی کیلئے اختراعی اقدامات ناگزیر:کے ٹی رامارائو

ریاستی وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما رائو کے ہاتھوں پرگتی بھون میں اسٹارٹ اپ یاترا کاافتتاح عمل میں آیا۔ اس موقع پرخطاب کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ موجودہ دور میں ہم صرف ٹکنالوجی سے مربوط اخترا عی ایجادات تک محدودہوچکے ہیں۔اس دوران اختراع کے حقیقی معنوںکوفراموش کردیاگیا ۔ جبکہ لفظ اختراع کاحقیقی مفہوم کچھ الگ کرنا ہے ۔ جس طرح حیدرآباد کاعثمانیہ بسکٹ ہے جو مشہورومعروف کمپنیوں پارلے اور بریٹانیہ کے پراڈکٹس سے کامیابی کے ساتھ مسابقت کررہاہے ۔انہوںنے کہاکہ اختراعی عمل کو اختیارکرنا ضروری ہوتا ہے جس کی مدد سے معیشت کومعمولی سے بہترین بنایا جاسکتا ہے ۔ کے ٹی راما رائو نے کہاکہ عموماً دنیا وسائل پرمبنی معیشت رہی ہے ۔ جیسے مشرق وسطی کے ممالک تیل کی دولت اورافریقی ممالک اپنی معدنیات پر مشتمل دولت پر انحصار کرتے ہیں ۔ زمانہ قدیم میں ہندوستان سونے چاندی اور ہیرے جواہرات کے وسائل پرمنحصر تھا ۔ مگر صنعتی انقلاب کے بعد یورپ میں معاشی تبدیلی رونماء ہوئی ۔ ہندوستان اس عمل کو اختیار کرنے میں پیچھے رہ گیاتھا۔ مگرحالیہ عرصہ میں دنیا میںایک اورتبدیلی رونماء ہوئی اوراختراع پرمبنی ترقی کے دور کا آغاز ہوا۔ ریاست تلنگانہ میں بھی اس نظریہ کواختیار کرتے ہوئے ترقی کی راہ پر گامزن ہے ۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے پہلے ہی دن سے اسٹارٹ اپس کو فروغ دینے کا فیصلہ کیاگیا۔ اسی نظریہ کے باعث ٹی ہب کاوجود عمل میں آیا ۔ جہاں آج 400سے زیادہ اسٹارٹ اپس حیدرآباد کودنیاکے نقشہ پر اہم مقام فراہم کررہے ہیں۔ گذشتہ چارمہنوں کے دوران حکومت کی جانب سے خواتین انٹرپریونرس کیلئے WEہب قائم کیاگیاہے تاہم حکومت کا احساس ہے کہ یہ اقدامات ایک فعال وکارکردمعیشت کے لئے کافی نہیںہیں ۔ اس لئے تلنگانہ اسٹیٹ میںانوویشن سل کاقیام عمل میں لایاگیا۔ اس اقدام کے ذریعہ ریاست ‘زمرہ دوم اورسوم شہروں میں انٹر پرینوسرس کی حوصلہ افزائی کیلئے 12اضلاع میں اسٹارٹ اپ یاتراشروع کی گئی ہے۔

جواب چھوڑیں