منوہر پاریکر ، دہلی کے ایمس ہاسپٹل میں شریک

گوا کے علیل چیف منسٹر آج مزید علاج و معائنوں کے ایک خصوصی پرواز کے ذریعہ قومی دارالحکومت روانہ ہوئے ۔ وہ آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسس میں علاج کے خواہاں ہیں ۔ منوہر پاریکر ، لبلبہ کے کینسر سے متاثر ہیں ، جو بہت بڑھ چکا ہے ۔ انہوں نے روانگی سے قبل اسپیکر پرمود ساونت اور ڈپٹی اسپیکر مائیکل لوگو سے بھی بات چیت کی ۔ لوگو نے کینڈولم کے ایک خانگی ہاسپٹل میں پاریکر سے ملاقات کے بعد یہاں نامہ نگاروں کو بتایا کہ موجودہ وزراء میں قلمدانوں کی تقسیم عمل میں آئے گی ، تاکہ گوا میں انتظامیہ کو بلا رکاوٹ چلایا جاسکے۔ وزراء ، کسی بھی فائل پر فیصلے لے سکیںگے۔ پاریکر ، 48 قلمدان تقسیم کریںگے ، تاہم دو یا تین قلمدان ، جیسے وزارتِ داخلہ ، وزارتِ فینانس اور جی اے بی کا قلمدان اپنے پاس رکھیںگے ۔ واضح رہے کہ پاریکر ، کلیدی قلمدانوں کے علاوہ پانڈورنگ مد کائیکر اور فرانسس ڈیسوزا کا قلمدان بھی رکھتے ہیں ، جو شدید علالت کے سبب ہاسپٹل میں زیر علاج ہیں ۔ توقع ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے مبصرین کی ایک مرکزی ٹیم گوا پہنچے گی اور ارکانِ اسمبلی و حلیف جماعتوں کے نمائندوں سے ملاقات کرے گی ۔ یہ ٹیم پاریکر کی غیرموجودگی میں بی جے پی زیرقیادت مخلوط حکومت کے متبادل قائد کے بارے میں بھی فیصلہ کرے گی ۔ لوگوں نے یہ بھی کہا کہ قیادت کی تبدیلی کا فیصلہ ہنوز نہیں کیا گیا ہے اور پاریکر ، چیف منسٹر کے عہدہ پر برقرار رہیںگے۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلہ پر اسی وقت تبادلۂ خیال کیا جاسکتا ہے جب وہ عہدہ پر برقرار رہنے کے قابل نہ رہیں ۔ اس وقت تک اس پر تبادلۂ خیال کرنا مناسب نہیں ۔ قومی قائدین کور کمیٹی اجلاس میں اس پر تبادلۂ خیال کریںگے۔ ضرورت پڑنے پر تبدیلی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ منوہر پاریکر فروری سے امریکہ ، ممبئی اور گوا کے ہاسپٹلس میں شریک ہوتے رہے ہیں۔ اپوزیشن اور مہذب سماج ، چیف منسٹر کی دفتر سے غیرحاضری پر تنقیدیں کرتا رہا ہے۔

جواب چھوڑیں