ٹی آرایس کیساتھ اتحادنہیں رہے گا

بی جے پی کے قومی صدرامیت شاہ نے کہاکہ تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی تنہااپنے بل بوتے پر مقابلہ کرے گی ۔ آج محبوب نگر میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوںنے عملاً انتخابی بگل بجادیا ۔ انہوں نے واضح الفاظ میںکہاکہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی اور تلنگانہ راشٹراسمیتی کے درمیان قطعی اتحاد نہیں رہے گا۔ امیت شاہ نے مزید کہاکہ بی جے پی کسی بھی سیاسی جماعت کے ساتھ مفاہمت کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی اورہمارا احساس ہے کہ ان انتخابات میں بی جے پی فیصلہ کن طاقت بن کر ابھرے گی۔صدربی جے پی نے کہاکہ پارٹی اپنے بل بوتے پرخوشامدپسندسیاست کے خلاف اورریاست کے ترقی کے عمل کومسدود کردینے والے عناصر کے خلاف انتخابی مہم چلائے گی ۔ کانگریس اوردیگر سیاسی جماعتوں کے درمیان عظیم تراتحاد کے متعلق جاری قیاص آرائیوں کے متعلق امیت شاہ نے کہاکہ تلگو ریاستوں کے عوام کانگریس کے رویہ کوبھلا نہیں سکے ہیں کہ کس طرح انجیا اورپی وی نرسمہا رائو کی تذلیل کی گئی تھی۔ ٹی آرایس کو تنقید کانشانہ بناتے ہوئے صدر بی جے پی نے کہاکہ ٹی آرایس پہلے پارلیمنٹ اور اسمبلی کے لئے بیک وقت انتخابات کے انعقاد کے حق میں تھی مگر بعدمیں اپنے نظریات سے انحراف کرتے ہوئے اسمبلی کے لئے قبل ازوقت انتخابات منعقد کرنے کافیصلہ کرلیا ۔ انہوںنے کہاکہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک ملک ایک انتخابات کا نظریہ پیش کیا تھا اور کے چندرشیکھررائو نے اس نظریہ کی حمایت کی تھی ۔ اس وقت ہم کے چندرشیکھررائو سے جاننا چاہتے ہیں کہ وہ اچانک انتخابات کے نام پرعوام پر زبردست مالی بوجھ کیوں ڈالناچاہتے ہیں۔ جبکہ اسمبلی کی میعاد مکمل ہونے ابھی 9ماہ باقی تھے۔ کیوں ریاستی اسمبلی کوقبل ازوقت تحلیل کردیاگیا۔ تلنگانہ میں 4200کسانوں کی خودکشیوں کا حوالہ دیتے ہوئے امیت شاہ نے کہاکہ ریاستی حکومت کی جانب سے مرکزی حکومت کی وضع کردہ اسکیموں پرعمل کرنے میںناکام رہی تھی ۔ اسی طرح ڈبل بیڈروم مکانات کا وعدہ بھی پورا نہیں کیاگیا۔ ریاست کوفنڈس کی اجرائی میں ناانصافی ہونے کے الزامات کومسترد کرتے ہوئے امیت شاہ نے کہاکہ 14ویں فینانس کمیشن کے تحت تلنگانہ کو2.30لاکھ کروڑ روپے جاری کئے گئے تھے جبکہ 13ویں فینانس کمیشن کے تحت صرف 15,000 کروڑ روپے ہی جاری کئے گئے تھے ۔ انہوں نے ٹی آرایس پرایم آئی ایم کے دبائو میں آکر 17ستمبرکوحیدرآباد کے ہندوستان میں انضمام کوسرکاری طورپرمنانے سے انکار کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہاکہ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ ٹی آرایس دورحاضر کے رضاکاروں کو ریاست حوالہ کرنا چاہتی ہے جنہوں نے حیدرآباد کے وفاق ہندمیں انضمام کی مخالفت کی تھی۔ اس مسئلہ پر عوام کوہی فیصلہ کرنا چاہئے ۔بی جے پی صدرنے ٹی آرایس کو اقلیتوں کو تحفظات کی فراہمی کے نام پر گمراہ کرنے کاالزام لگاتے ہوئے کہاکہ حکومت کواچھی طرح معلوم ہے کہ مذہب کی بنیاد پر تحفظات فراہم نہیں کئے جاسکتے ۔ انہوں نے ریاست میں نئے اضلاع کی تشکیل کے ذریعہ عوام کودرپیش مشکلات میں اضافہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہاکہ نئے اضلاع میں بنیادی سہولتوں کافقدان ہے ۔اس جلسہ عام سے صدربی جے پی تلنگانہ ڈاکٹر کے لکشمن اور سینئرپارٹی قائد جی کشن ریڈی نے بھی خطاب کیا۔

جواب چھوڑیں