کالادھن کی روک تھام کے موجودہ قوانین ناکافی : چیف الیکشن کمشنر او پی راوت

چیف الیکشن کمشنر(سی ای سی) او پی راوت نے ہفتہ کے دن کہا کہ موجودہ قوانین انتخابات میں کالا دھن کی لعنت کی روک تھام کے لئے ناکافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیمبرج انالیٹیکا جیسی ڈاٹا چوری اور فیک نیوز ملک میں انتخابی عمل کے لئے خطرہ ہیں۔ راوت ’’چیلنجس ٹو انڈیاس الیکٹورل ڈیموکریسی‘‘ کے موضوع پر ایک سمپوزیم سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت ایسے ہی نہیں چل سکتی۔ اس کے لئے ہمت ‘ کردار ‘ ایمانداری اور جانکاری ضروری ہیں جبکہ یہ چیزیں گھٹتی جارہی ہیں بلکہ ختم ہونے کو ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر نے الیکشن کمیشن کو درپیش کئی مسائل اور چیلنجس گنائے۔ انہوں نے کہا کہ عام آدمی پورے سسٹم کے تعلق سے شبہات میں مبتلا ہے اور یہ بات باعث تشویش ہے۔ فیک نیوز ‘ ڈاٹا چوری جیسی شرارتیں نہ صرف کمیونیکیشن کو نشانہ بنارہی ہیں بلکہ کسی بھی عمل کا نتیجہ بدل رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں ہر جمہوریت کو ان خطرات کا سامنا ہے۔ سمپوزیم کا اہتمام چیف الیکٹورل آفیسر دہلی نے کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں الیکشن کمیشن نے سائبر سیکوریٹی جیسے مسائل پر توجہ دی ہے تاکہ کیمبرج انالیٹیکا جیسی چیزیں انتخابات کے دوران نہ ہوں۔ سوشیل میڈیا پلیٹ فارمس کا بے جا استعمال نہ ہو۔ انتخابات میں پیسے کی طاقت کے استعمال کے تعلق سے انہوںنے کہا کہ موجودہ قوانین اس کی روک تھام میں معاون نہیں ہیں اسی لئے ہندوستان میں فی الحال انتخابات کی سرکاری فنڈنگ ممکن نہیں۔ ہندوستان اور ہندوستانی انتخابات میں پیسے کا بے جا استعمال سب سے بڑی تشویش کی وجہ ہے۔ انتخابی مہم اور مالیہ میں کھلاپن لانے کی بہت باتیں ہوتی ہیں ۔ عوام تک سرکاری فنڈنگ کی بات کرنے لگے ہیں لیکن آج جو قانونی چوکھٹا دستیاب ہے وہ ناکافی ہے اسی لئے کمیشن اس سمت کئی اصلاحات تجویز کررہا ہے۔ سرکاری فنڈنگ کے تعلق سے او پی راوت نے کہا کہ کمیشن کے خیال میں اس سے مقصد پورا ہونے والا نہیں کیونکہ جب تک پیسے کے کئی ذرائع ہوں سرکاری فنڈنگ سے مدد ملنے والی نہیں۔ راوت نے کہا کہ میڈیا کا موثر استعمال ہونا چاہئے۔ فیک نیوز اور پیڈ نیوز کی روک تھام ہونی چاہئے۔ الیکشن کمیشن اس سمت کام کررہا ہے۔ بڑا چیلنج میڈیا مینجمنٹ بشمول سوشیل میڈیا ہے۔ اس کے کئی پہلو ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کی ملکیت کا جائزہ لیا جائے تو آپ کو پتہ چلے گا کہ بڑی تبدیلیاں آچکی ہیں۔ انہوں نے ہندوستانی میڈیا کو مشورہ دیا کہ وہ بین الاقوامی میڈیا کی اچھی باتیں اپنائیں جس نے فیک نیوز کیا ہے اس پر ایک مستقل کالم شروع کیا ہے۔ سی ای سی نے کہا کہ انتخابی فہرستوں کو ٹھیک کرنا بڑا اور اہم کام ہے اور اسے پورا اطمینان ہونے تک جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک الیکشن کے دوران بنگلورو میں رائے دہی کا تناسب بہت کم تھا جس پر انہیں حیرت ہوئی۔ ہماری تحقیقات میں پتہ چلا کہ آئی ٹی صنعت کے لوگ مقام ملازمت بدلتے رہتے ہیں۔ فہرست رائے دہندگان میں نام تو موجود ہیں لیکن لوگ موجود نہیں اسی لئے صرف 52-54 فیصد ووٹنگ ہوئی۔ بنگلورو‘ آئی ٹی صنعت کا مرکز ہے اور یہاں سے نوجوانوں کا تبادلہ حیدرآباد ‘ گڑگاؤں اور چینائی جیسے شہروں میں ہوتا رہتا ہے یا وہ کمپنیاں بدلتے رہتے ہیں۔

جواب چھوڑیں