کشمیر میں انکاؤنٹر‘ لشکر اور حزب کے 5 عسکریت پسند ہلاک

لشکرطیبہ اور حزب المجاہدین کے 5 عسکریت پسند ہفتہ کے دن جموں وکشمیر کے ضلع کلگام میں انکاؤنٹر میں ہلاک ہوئے۔ ان میں ایک عسکریت پسند گذشتہ برس ایک کیاش ویان پر ہلاکت خیز حملہ میں ملوث تھا جس میں5 ملازمین پولیس اور 2گارڈس مارے گئے تھے۔ پولیس نے یہ بات بتائی۔ سیکوریٹی فورسس نے جنوبی کشمیر کے ضلع کلگام میں قاضی گنڈ کے چوگام علاقہ میں جمعہ کی رات سرچ آپریشن شروع کیاتھا۔ علاقہ میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کی جانکاری ملی تھی۔ تلاشی مہم کے دوران عسکریت پسندوں نے سرچ پارٹی پر گولیاں چلائیں۔ پولیس ترجمان نے بتایاکہ پہلے شہریوں کو انکاؤنٹر کے مقام سے محفوظ مقام پر منتقل کیاگیا۔ اس کے بعد سیکوریٹی فورسس نے دہشت گردوں کی فائرنگ کا جواب دینا شروع کیا۔ بندوقوں کی لڑائی میں 5 عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔ دہشت گردوں کا یہ گروپ ممنوعہ حزب المجاہدین اور لشکرطیبہ سے تعلق رکھتا تھا۔ عسکریت پسندوں کی شناخت گلزار احمد پدار عرف سیف، فیصل احمد راتھرعرف داؤد‘ زاہداحمد میر عرف ہاشم، مسرور مولوی عرف ابودردا اور ظہوراحمد لون عرف رحمن بھائی کی حیثیت سے ہوئی ہے۔ ان میں اننت ناگ کے مسرور مولوی کو چھوڑکر دیگر چاروں کلگام کے رہنے والے تھے۔ پولیس ترجمان کے بموجب گلزاراحمد، الطاف کچرو کا قریبی ساتھی تھا۔ حزب المجاہدین کمانڈرالطاف کچرو اننت ناگ میں گذشتہ ماہ انکاؤنٹر میں ماراگیاتھا۔ مقام انکاؤنٹر سے اسلحہ وگولہ بارود ضبط ہوا۔ اسی دوران قریب میں جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ نوجوانوں کے گروپس نے فورسس پر سنگباری کی۔ سیکوریٹی فورسس کی کارروائی میں چند نوجوان زخمی ہوئے۔ بارہمولہ اور قاضی گنڈ کے درمیان ٹرین خدمات معطل رہیں۔ اننت ناگ اور کلگام میں موبائیل‘ انٹرنیٹ سرویس معطل کردی گئی۔ یواین آئی کے بموجب پولیس ترجمان نے کہا کہ یہ پولیس اور سیکوریٹی فورسس کی زبردست کامیابی ہے۔ حزب اور لشکر کے یہ دہشت گرد کئی دہشت گرد حملوں میں ملوث تھے۔

جواب چھوڑیں