ہند۔پاک‘ بیرونی دنیا پر زیادہ منحصر: ڈاکٹرمعید یوسف

 بحران کے لمحوں میں پاکستان اور ہندوستان‘ باہر کی دنیا پر زیادہ منحصر ہوگئے ہیں۔ ڈاکٹر معید یوسف اسوسی ایٹ وائس پریسڈنٹ ایشیاء سنٹر یونائیٹیڈ انسٹی ٹیوٹ آف پیس نے یہ بات کہی۔ ڈاکٹر یوسف نے جمعہ کے دن کراچی میں انسٹی ٹیوٹ آف بزنس اڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کے آڈیٹوریم میں 2نیوکلیئرطاقتوں پر لکچردیا۔ عصرحاضر میں ہند۔پاک تعلقات کے سلسلہ میں ڈاکٹریوسف نے اپنی کتاب بروکرنگ پیس اِن نیوکلیئر انوائرنمنٹس : یوایس کرائسس مینجمنٹ ان ساؤتھ ایشیاء پر روشنی ڈالی۔ دونوں ممالک کے نیوکلیئر تجربات، کارگل، ممبئی اور نام نہاد سرجیکل حملوں کی مثالیں دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنی ریسرچ میں پایا ہے کہ بحران کی یکسوئی کے لئے طاقتور تیسرے فریق سامنے آجاتے ہیں۔ انہوں نے امریکہ کا حوالہ دیا۔ پاکستان اور ہندوستان تیسرے فریق چاہتے ہوں ایسانہیں ہے تاہم دونوں ممالک کو تیسرے فریق(امریکہ) سے کام لینے کی کوشش کرنی چاہئے۔ ڈاکٹر یوسف نے کہا کہ یہ ماڈل جھگڑے کی یکسوئی کا موثرراستہ ہے۔ سابق معتمد دفاع ریٹائرڈ جنرل طارق وسیم غازی نے اس ماڈل سے اتفاق نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ عام طور پر ہندوستان باہمی سطح پرپاکستان سے تال میل اور تیسرے فریق کی موجودگی پسند نہیں کرتا چاہے وہ اقوام متحدہ ہو امریکہ یا چین۔

جواب چھوڑیں