اندرگاندھی عظیم اور طاقتور وزیراعظم تھی: سینئر کانگریس قائد نٹورسنگھ

اندراگاندھی نے 1975ء کے ایمرجنسی اور آپریشن بلو اسٹار کی دو سنگین غلطیاں کی تھیں لیکن وہ عظیم اورطاقتور وزیراعظم تھیں۔ وہ انسانیت کی ہمدرد تھیں۔ بزرگ کانگریس قائد کے نٹورسنگھ نے یہ بات کہی۔ نٹور سنگھ نے 1966ء تا1971ء سیول سرویس عہدیدار کی حیثیت سے اندراگاندھی کے دفتر میں کام کیاتھا۔ 80ء کے دہے میں وہ کانگریس میں شامل ہوئے تھے اور راجیوگاندھی کی کابینہ میں وزیر بنے تھے۔ نٹورسنگھ نے کہا کہ اندراگاندھی کو اکثر سخت گیر اور بے رحم کہاجاتا ہے‘ ان کی انسانیت نوازی کا ذکر نہیں ہوتا۔ وہ اچھا ذوق رکھتی تھیں۔ نٹورسنگھ نے کہا کہ اندراگاندھی نے دو سنگین غلطیاں کیں۔ 1975ء میں انہوں نے ایمرجنسی نافذ کی اور آپریشن بلواسٹار ہونے دیا لیکن اس کے باوجود وہ عظیم اورطاقتور وزیراعظم تھیں۔ نٹورسنگھ نے یہ بات اپنی نئی کتاب’’Treasured Epistles‘‘ میں کہی ہے۔ یہ کتاب ان خطوط کا مجموعہ ہے جو نٹورسنگھ کے دوستوں معاصرین اور ساتھیوں نے ان کی فارن سرویس کے دنوں سے لے کر ان کے وزیرخارجہ رہنے تک لکھے تھے۔ کتاب میں اندراگاندھی ، ای ایم فاسٹر، سی راج گوپال چاری، لارڈ ماؤنٹ بیٹن، جواہرلال نہرو کی دوبہنوں وجئے لکشمی پنڈت اور کرشنا ہوتی سنگھ ‘آر کے نارائنن، نیراد سی چودھری اور ملک راج آنند کے خطوط شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان ممتاز شخصیتوں نے ہرایک نے انہیں مختلف انداز میں متاثر کیا۔ اندراگاندھی نے نٹور سنگھ کو جو خطوط لکھے ان میں باپ بننے پر مبارکباد سے لے کر سیاست ‘کتابوں اور سالگرہ کی مبارکباد جیسے امور شامل ہیں۔ 1980ء کے لوک سبھا الیکشن میں زبردست کامیابی کے بعد اندراگاندھی نے نٹور سنگھ کو جو اس وقت اسلام آباد میں ہندوستان کے ہائی کمشنر تھے لکھاتھا کہ حقیقی دشواریاں اب شروع ہوں گی۔ عوام کی توقعات زیادہ ہیں لیکن صورتحال سیاسی اور معاشی دونوں انتہائی پیچیدہ ہے۔ نٹورسنگھ کی نئی کتاب ’روپا اینڈ کمپنی ‘نے شائع کی ہے۔ کتاب میں یہ بھی درج ہے کہ راج گوپال چاری نے نٹورسنگھ سے ایک مرتبہ کہاتھا کہ بٹوارہ کا آئیڈیا لارڈماؤنٹ بیٹن کو انہوں نے ہی دیاتھا کیونکہ اس وقت ملک کا بٹوارہ واحد حل تھا۔ نٹورسنگھ نے جب یہ کہا کہ مہاتماگاندھی بٹوارہ کے مخالف تھے تو راج گوپال چاری نے کہا کہ مہاتماگاندھی نہایت عظیم انسان تھے لیکن وہ جو ہورہا تھا دیکھ رہے تھے۔ جب مہاتماگاندھی نے یہ تسلیم کرلیا کہ ہم سب نے بٹوارہ کے حق میں ہیں توانہوں نے کہا کہ ’میں بھی تمہارے ساتھ ہوں اور اگلے دن دہلی سے روانہ ہوگئے تھے۔

جواب چھوڑیں