بودھ اساتذہ کی طرف سے جنسی زیادتی کوئی نئی بات نہیں: دلائی لاما

تبتی رہنما دلائی لامہ نے کہا ہے کہ انہیں 90 کے دہائی سے ہی معلوم ہے کہ بودھ اساتذہ بھی بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے مرتکب ہوئے ہیں اور اب اس تناظر میں منظر عام پر آنے والے یہ تازہ الزامات کوئی نیا انکشاف نہیں ہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے تبتیوں کے روحانی پیشوا دلائی لامہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ بودھ استادوں کی طرف سے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزامات کوئی نئی بات نہیں ہیں بلکہ وہ یہ حقیقت 1990 کی دہائی سے ہی جانتے ہیں۔ اپنے دورہ ہالینڈ کے دوران وہ ایسے افراد سے بھی ملے تھے، جو مبینہ طور پر بودھ استادوں کے ہاتھوں جنسی زیادتی کا نشانہ بنے تھے۔دلائی لامہ اس وقت یورپ کو چار روزہ دورہ کر رہے ہیں، جس دوران وہ کئی ممالک کے رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کریں گے۔ ان کے اس دورے سے قبل درجنوں متاثرین نے مطالبہ کیا تھا کہ وہ جب یورپ آئیں تو ان سے بھی ملیں۔ اسی لیے ہالینڈ میں ان کی ملاقات طے گئی تھی۔متاثرہ افراد نے اس سنگین معاملے کی طرف توجہ مرکوز کرانے کی خاطر جاری کردہ اپنی پیٹیشن میں لکھا تھا، ’’ ہم کھلے دل اور دماغ کے ساتھ بودھ ازم میں پناہ یا حفاظت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن اسی مذہب کے نام پر ہمارا ریپ ہوا‘‘۔متاثرہ افراد سے ملاقات کے بعد تراسی سالہ دلائی لامہ نے ایک ڈچ ٹیلی وڑن میں گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’میں اس بارے (بودھ استادوں کی طرف سے جنسی زیادتی کے واقعات) کے بارے میں پہلے ہی جانتا تھا۔ یہ کوئی نہیں بات نہیں۔‘‘دلائی لامہ نے کہا کہ جنسی زیادتی کرنے والے لوگ دراصل گوتم بودھ کی تعلیمات کی پرواہ نہیں کرتے۔ اس نشریاتی پروگرام میں انہوں نے مزید کہا کہ اب جب بہت سے باتیں عام ہو چکی ہیں، تو ایسے لوگ جو ان غلطیوں کے مرتکب ہوئے ہیں، وہ لازمی طور پر شرمندہ ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنسی زیادتی کے واقعات کی روک تھام کے لیے مذہبی رہنماؤں کو زیادہ توجہ دینا چاہیے۔

جواب چھوڑیں