جموں وکشمیر میں17 نومبر سے 9 مرحلوں میں پنچایت الیکشن

جموں وکشمیر میں پنچایت الیکشن 17 نومبرسے 9 مرحلوں میں منعقد ہوگا۔ ریاست کے چیف الکٹورل آفیسر شفین کابرا نے اتوار کے دن یہ بات بتائی۔ انہوں نے کہا کہ لگ بھگ 58 لاکھ رائے دہندے 35,096 پنچایت حلقوں میں ووٹ ڈالنے کے اہل ہوں گے۔ ہمیں توقع ہے کہ لوگوں کی بڑی تعداد الیکشن میں حصہ لے گی۔ پہلے مرحلہ کے لئے اعلامیہ 23اکتوبر کو جاری ہوگا۔ کابرا نے سری نگر میں اخباری نمائندوں سے کہا کہ غیر جماعتی بنیاد پر پنچایت الیکشن 9 مرحلوں میں ہوگا۔ ووٹوں کی گنتی اسی دن یا اگلے دن ہوگی۔ پڑوسی ریاستوں سے زائد بیالٹ باکس لائے گئے ہیں۔ 2 قسم کے بیالٹ پیپر ہوں گے۔ اس بار سرپنچ بھی راست منتخب کئے جائیں گے۔ پولنگ 17 نومبر‘20نومبر‘ 24نومبر‘ 27نومبر‘ یکم دسمبر‘4 دسمبر‘8 دسمبر اور11 دسمبر کو ہوگی۔ رائے دہی کے اوقات صبح 8 تا2بجے دن ہوں گے۔ انتخابات کا پورا عمل 17 دسمبر تک مکمل ہوجائے گا۔ ریاست بھر میں 316 بلاکس میں4490 پنچایت حلقے ہیں۔ سی ای او نے بتایاکہ الیکشن کے اخراجات اب کی بار بڑھادئیے گئے ہیں۔ سرپنچوں کے لئے 20ہزار اور پنچوں کے لئے 5ہزار روپئے خرچ کرنے کی اجازت ہے۔ کابرا نے کہا کہ ہر شخص کو سیکیوریٹی فراہم نہیں کی جاسکتی ۔سیکیوریٹی کا ماحول فراہم کیاجاناچاہئیے۔ ہم نے اس پہلو پر توجہ دی ہے اور ہمارا خیال ہے کہ آزادانہ ومنصفانہ الیکشن ایسے ماحول میں ممکن ہوں گے جو پُرامن ہو۔ کل ہی ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر نے 8اکتوبر سے شہری مجالس مقامی کے انتخابات 4مرحلوں میں منعقد کرنے کا اعلان کیاتھا۔قیاس لگایاجارہا تھا کہ ریاست میں پنچایت وشہری مجالس مقامی کا الیکشن ملتوی ہوجائے گا کیونکہ دو بڑی سیاسی جماعتوں نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی نے الیکشن سے دور رہنے کا اعلان کیا تھا۔ ان کا مطالبہ ہے کہ مرکز پہلے دفعہ 35A کے تحفظ کا تیقن دے جس کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست داخل ہوئی ہے۔ یہ دفعہ ریاست کو ریاست کے مستقل شہریوں کا تعین کرنے کا اختیاردیتی ہے۔

جواب چھوڑیں