طوفان فلورنس سے دریاوؤں میں طغیانی، مہلوکین کی تعداد13تک پہنچ گئیں

طوفان سست رفتاری سے شمالی کیرولائنا کے اندر سے گزرنے کے بعد پڑوسی ریاست جنوبی کیرولائنا میں داخل ہوگیا ہے۔بحرِ اوقیانوس میں جنم لینے والے طوفان فلورنس سے امریکہ کی ریاست شمالی کیرولائنا میں ہلاکتوں کی تعداد 13 ہوگئی ہے جب کہ حکام نے طوفان کے باعث دریاوؤں میں ریکارڈ طغیانی کا انتباہ دیا ہے۔فلورنس جمعے کو 145 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے شمالی کیرولائنا سے ٹکرایا تھا جس کے بعد طوفان سست رفتاری سے شمالی کیرولائنا کے اندر سے گزرنے کے بعد پڑوسی ریاست جنوبی کیرولائنا میں داخل ہوگیا ہے۔حکام کے مطابق ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب ‘فلورنس’ جنوبی کیرولائنا کے دارالحکومت کولمبیا سے 65 کلومیٹر جنوب مشرق میں موجود تھا اور مغرب کی جانب چھ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بڑھ رہا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ طوفان کے تحت ہونے والی مسلسل طوفانی بارشوں کے باعث ندی نالوں اور دریاوں میں طغیانی ہے اور نشیبی آبادیاں زیرِ آب آ رہی ہیں۔طوفان کے باعث بلند سمندری لہریں شمالی کیرولائنا کی ساحلی پٹی سے ٹکرائی تھیں جب کہ طوفانی ہواوں اور بارشوں کے باعث بھی املاک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔متاثرہ علاقوں میں امریکی میرینز، کوسٹ گارڈ، سول انتظامیہ اور رضاکار ہیلی کاپٹروں، کشتیوں اور بکتر بند گاڑیوں کی مدد سے امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں اور اب تک پانی میں گھری عمارتوں میں پھنسے سینکڑوں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا ہے۔حکام نے خبردار کیا ہے کہ طوفان کے باعث سمندر کی سطح میں اضافے اور مسلسل بارشوں سے دریاو?ں میں ریکارڈ طغیانی ہے جس کے باعث دریاو?ں کے ساتھ واقع نشیبی آبادیوں کے رہائشیوں کو انخلا کا حکم دے دیا گیا ہے۔ماہرینِ موسمیات نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آئندہ چند روز کے دوران شمالی کیرولائنا کو تاریخ کے بدترین سیلاب کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔موسمیاتی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ شمالی کیرولائنا کے تمام دریاوں میں پانی کا بہاو اتوار یا پیر تک ریکارڈ سطح پر پہنچ جائے گا اور تقریباً تمام دریاو?ں کا پانی کناروں سے نکل کر نزدیکی آبادیوں کو ڈبونے کا باعث بنے گا۔حکام نے شمالی کیرولائنا میں بہنے والے دونوں بڑے دریاوں – کیپ فیئر اور لٹل ریور- کے کناروں کے ساتھ واقع تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر کے دائرے میں بسنے والے ہزاروں افراد کو گھر بار چھوڑ کر فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا حکم دیا ہے۔دریاوں کے کنارے جن قصبوں سے آبادی کو انخلا کا حکم دیا گیا ہے وہ شمالی کیرولائنا کی ساحلی پٹی سے ڈیڑھ سو کلومیٹر دور واقع ہیں۔حکام کا کہناہے کہ ساحل سے سیکڑوں کلومیٹر دور دریاو?ں میں طغیانی سے طوفان کی تباہ کاری اور شدت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔طوفانی بارشوں کے باعث شمالی کیرولائنا میں کھڑی فصلوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے جب کہ ریاست میں بجلی کی ترسیل کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔امریکہ کی ‘نیشنل ویدر سروس’ کے مطابق اب تک کئی علاقوں میں دو فٹ سے زائد بارش پڑی چکی ہے جب کہ مزید ایک سے ڈیڑھ فٹ تک بارش پڑنے کا امکان ہے۔

جواب چھوڑیں