مرکز رام مندر کی تعمیر میں حائل رکاوٹوں کو دور کرے: وی ایچ پی

 وشو ہندو پریشد(وی ایچ پی) نے اتوار کو مرکز کی برسر اقتدار نریندر مودی حکومت سے مانگ کی ہے کہ وہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر میں حائل روکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے ضروری اقدامات کرے۔وی ایچ پی کے بین الاقوامی جنرل سکریٹری ملند پرانڈے نے صحافیوں سے کہا کہ متنازعہ ڈھانچے کے انہدام کے ساتھ ہی رام جنم بھومی پر رال للا کی مورتی رکھ دی گئی تھی۔ اب وہاں پر قائم مندر کو حتمی شکل دینی باقی ہے جس کے لئے مرکزی حکومت کو تمام قانونی روکاوٹوں کو دور کرنے کی پہل کرنی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ پانچ اکتوبر کو نئی دہلی میں سادھو سنت رام جنم بھومی کے بینر کے نیچے مندر کی تعمیر جلد کرانے کے بارے میں حکمت عملی پر غور و خوض کریں گے ،سادھو سنتوں کی میٹنگ کے بعدوای ایچ پی رام مندر تحریک کی ایک وسیع حکمت عملی تیار کریگی۔مندر کی تعمیر کے لئے پتھروں کو تراشنے کا کام تقریبا پورا ہوچکا ہے۔ پرانڈے نے کہا کہ اگلے سال پریاگ کنبھ میلہ کے دوران 31 جنوری اور ایک فروری کو منعقد دھرم سنسد میں مندر تعمیر کی حکمت عملی پر بحث کی جائے گی۔مذہب تبدیلی کے مسئلہ پر وی ایچ پی کے لیڈر نے کہا کہ اترپردیش میں بڑی تعداد میں عیسائی مشنریاں سیدھے سادھے لوگوں کو مذہب تبدیلی کے لئے مجبور کر رہی ہیں جس پر ریاست کی یوگی حکومت کو نوٹس لینے کی ضرورت ہے ،انہوں نے کہا کہ اس دوران ملک کے کئی حصوں میں مسلم اور دیگر علاقوں میں لوگوں نے اپنے پرانے مذہب یعنی ہندو مذہب میں شرکت کی منشا ظاہر کی جس کا ان کی تنظیم تہ دل سے استقبال کرتی ہے۔خواتین کو باختیار بنانے کی وکالت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بجرنگ دل 25 ستمبر سے 2 اکتوبر کے درمیان ملک گیر سطح پرخواتین ممبر سازی مہم کا آغاز کریگی۔اس سے پہلے گذشتہ سال تنظیم نے رکن سازی مہم بھی چلائی تھی جس میں 32 لاکھ سے زیادہ لوگ شامل ہوئے تھے۔بجرنگ دل اس کے علاوہ گاؤ رکشا ، تبدیلی مذہب اور لوجہاد جیسے غلط طریقوں کے خلاف مہم چلائے گا۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ چھ سے 8 ستمبر کے درمیان امریکی شہر شکاگو میں منعقد ہوئے عالمی ہندو کانگریس کانفرس میں 60 ممالک کے 2400 سے زیادہ ترجمانوں نے حصہ لیا جس میں مختلف ممالک کے قومی سربراہ اور دانشور شامل تھے۔

جواب چھوڑیں