گوا کی سیاسی صورتحال کا جائزہ لینے بی جے پی مبصرین کی آمد

برسرِ اقتدار بی جے پی کے مبصرین کی ایک سہ رکنی ٹیم اتوار کی دوپہر گوا پہنچی تاکہ چیف منسٹر منوہرپاریکر کی علالت سے پیدا سیاسی صورتحال کا جائزہ لیاجائے۔ کانگریس نے بھی کہا ہے کہ صورتحال پر اس کی نظر ہے۔ 62 سالہ منوہرپاریکر کو علاج کے لئے نئی دہلی کے آل انڈیا میڈیکل سائنسیس (ایمس) میں شریک کرایاگیا ہے۔ بعض میڈیا اطلاعات میں کہاگیا ہے کہ بی جے پی منوہرپاریکر کے صحتیاب ہونے تک چیف منسٹر کا متبادل تلاش کررہی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے قومی جنرل سکریٹریز بی ایل سنتوش اور رام لال کے علاوہ گوا انچارج وجئے پورانک کو گوا بھیجا ہے تاکہ وہ صورتحال کا جائزہ لیں‘ جہاں پارٹی علاقائی جماعتوں اور آزادامیدواروں کی تائید سے برسرِ اقتدار ہے۔ بی جے پی کے ریاستی صدر ونئے تنڈولکر نے اخباری نمائندوں کو بتایاکہ آج اور کل بی جے پی قائدین اور اتحاد کے شرکاء گوا فارورڈ پارٹی، مہاراشٹرا وادی گومنتک پارٹی، اور آزاد امیدواروں کی کئی ملاقاتیں ہوں گی۔ بی جے پی قائد مائیکل لوبو نے جو گوا اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر ہیں ہفتہ کے دن پی ٹی آئی سے کہا کہ پارٹی قائدین حلیفوں سے کہیں گے کہ وہ بھگوا جماعت کا حصہ بن جائیں۔ جی ایف پی اور ایم جی پی سے کہاجائیگا کہ وہ بی جے پی میں ضم ہوجائیں ۔ اس کے بعد ہی طئے ہوگا کہ اگلا چیف منسٹر کون بنے گا۔ 40 رکنی گوا اسمبلی میں بی جے پی کے فی الحال 14ارکان ہیں جبکہ جی ایف پی اور ایم جی پی کی فی کس تین ارکان ہیں۔ تین آزاد ارکان کی بھی تائید بی جے پی کو حاصل ہے۔ اپوزیشن کانگریس کے ارکان اسمبلی کی تعداد16ہے جبکہ این سی پی کا ایک رکن ہے۔ اسی دوران کانگریس نے اتوار کے دن کہا کہ صورتحال پر اس کی نظر ہے اور وہ گوا میں تشکیل حکومت کا امکان تلاش کرسکتی ہے لیکن وہ ریاست کے مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سکریٹری اے چلا کمار نے جو گوا میں پارٹی انچارج ہیں کہا کہ ہمارا موقف بالکل واضح ہے ۔ ہم تمام امکانات یقیناً تلاش کریں گے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم آئیڈیالوجی یا گوا کے مفادات پر کوئی سمجھوتہ کریں گے۔ ہمیں گوا کے عوام کے مفاد پر سمجھوتہ کرکے اقتدار پر قبضہ کی عجلت نہیں ہے۔ کانگریس عوام کو جوابدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی نے ریاست کی صورتحال پر نظررکھی ہے۔ ہمارے تمام ارکان اسمبلی متحد ہیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ برسرِ اقتدار خیمہ میں کیاہورہا ہے۔ خانہ جنگی پہلے ہی شروع ہوچکی ہے۔ کابینی وزراء ایک دوسرے پر پتھرپھینک رہے ہیں۔ کانگریس قائد نے کہا کہ گوا کے تمام ارکان اسمبلی کو بلالحاظ پارٹی وابستگی ریاست کی بقاء کے لئے کوئی موقف اختیارکرناچاہئیے۔ ایم جی پی نے ہفتہ کے دن کہاتھا کہ وقت آگیا ہے کہ منوہرپاریکر ریاست کی کمان اپنی کابینہ کے سینئر ترین وزیر کے حوالے کردیں۔

جواب چھوڑیں