مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کا وعدہ ’’ کھلادھوکہ ‘‘:غلام نبی آزاد

قائد اپوزیشن راجیہ سبھا غلام نبی آزاد نے کہا ہے کہ تلنگانہ کے نگرانکار چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے 12فیصد تحفظات کا وعدہ کرکے مسلمانوں کو دھوکہ دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے 2004 میں مسلمانوں کو 5 فیصد تحفظات کے وعدہ کو پورا کرتے ہوئے اس وعدہ کو روبہ عمل لانے کی بھر پور کوشش کی تھی تاہم بعض افراد اس کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع ہوئے تھے ہائی کورٹ نے اس ضمن میں سرکاری احکام کو کالعدم قرار دیا جس کے بعد اس وقت کے چیف منسٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے5فیصد کو گھٹا کر 4فیصد مسلم تحفظات کو روبہ عمل لایا جس کے بعد سے مسلمانوں کو تعلیم اور ملازمتوں میںاس کا فائدہ ہورہا ہے۔4 فیصد تحفظات میں محمد علی شبیر کا بھی اہم رول رہا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ ہائی کورٹ نے 5فیصد تحفظات کو مسترد کردیا ہے تو کے سی آر 12فیصد تحفظات کس طرح دے سکتے ہیں ان کا یہ اعلان محض مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرتے ہوئے اقتدار ہڑپنا تھا۔ غلام نبی آزاد آج گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کررہے تھے ۔ انہوںنے کہا کہ کانگریس نے اقلیتی طلباء کو فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیم شروع کی تھی جس سے لاکھوں طلباء اعلیٰ وپیشہ وارانہ تعلیم سے آراستہ ہوئے اور اپنے خاندان کی کفالت کا ذریعہ بن گئے تاہم برسر اقتدار آنے کے بعد کے سی آر نے فیس ری ایمبرسمنٹ کو بند کردیا جس کی وجہ سے تلنگانہ میں 70 فیصد انجینئرنگ کالجس بند ہوگئے ۔ غلام نبی آزاد نے کہا کہ تلنگانہ کی تشکیل میں کے سی آر کا کوئی رول نہیں ہے ۔ 2013-14 میں کانگریس نے اے پی تلنگانہ کے ارکان اسمبلی سے علیحدہ علیحدہ بات چیت کی جس پر اے پی کے ارکان نے اس فیصلہ کو بائی کمان پر چھوڑ دیا تھا اور امید ظاہر کی تھی کہ ہائی کمان ان کے حق میں فیصلہ کرے گا ۔ جبکہ تلنگانہ کے کانگریس ارکان نے بھی اس مسئلہ کو ہائی کمان پر چھوڑ دیا تھا۔ جس کے بعدیو پی اے چیرپرسن سونیا گاندھی نے علحدہ ریاست کی تشکیل پر رضا مندی ظاہر کی ۔ انہوںنے کہا کہ کانگریس کی مثال اس کسان جیسی ہے جس نے زمین میں بیج بوکر ہل چلایا اور کھیت کو سیراب کیا جب فصل تیار ہوگئی تو دوسرا کاٹ کر لے گیا ۔ انہوںنے کے سی آر کو ناقابل بھروسہ شخص قرار دیتے ہوئے کہا کہ تشکیل تلنگانہ کے اعلان کے بعد یہی کے سی آر نے اپنے ارکان خاندان کے ساتھ سونیا گاندھی سے ملاقات کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا تھا ۔ اس سے قبل انہوںنے یہ کہا تھا کہ اگر تلنگانہ دیں گے تو وہ ٹی آر ایس کو کانگریس میں ضم کردیں گے اور سیاست سے سبکدوش ہوجائیں گے لیکن وہ اپنے وعدہ سے مکر گئے۔ کے سی آر کی خاندانی حکومت پر کانگریس کی تنقید اور خود کانگریس میں خاندانی حکمرانی کے تعلق سے ایک سوال پر غلام نبی آزاد نے کہا کہ نہرو خاندان نے کبھی بھی اپنے افراد خاندان کو ان کا جانشین نہیں بنایا ۔ نہرو کے انتقال کے بعد لعل بہادر شاستری کو جانشین بنایا گیا ۔ شاستری کے انتقال کے بعد پارلیمانی کمیٹی نے وزیر اعظم کے عہدہ پر اندرا گاندھی کو منتخب کیا ۔ اندرا گاندھی نے راجیو گاندھی کو وزیر اعظم نامزد نہیں کیا بلکہ پارلیمانی کمیٹی نے انہیں اپنا قائد منتخب کیا ۔ جبکہ کے سی آر نے اپنے فرزند اور بھانجہ کو ریاستی وزراء کے عہدوں سے نوازا ہے۔ بی جے پی کے ساتھ کے سی آر کے تعلقات کے سوال پر غلام نبی آزاد نے کہا کہ کے سی آر نے نوٹ بندی ، جی ایس ٹی، صدر جمہوریہ اور نائب صدر جمہوریہ اور ڈپٹی چیرمین راجیہ سبھا کے انتخابات میں بی جے پی کے فیصلوں کی یکطرفہ تائید کی ۔ اس کے باوجود وہ اپنے آپ کو پارسا سمجھتے ہیں۔ رعیتو بندھو اسکیم پر عمل آوری سے متعلق سوال پر انہوںنے کہا کہ کسانوں کو فی ایکر4ہزار روپے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ انہیں اپنی پیداوار کی اقل ترین قیمت ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

جواب چھوڑیں