وزیر اعظم اور وزیر فینانس ’’ جھوٹ بولنا بند کردیں‘‘:راہول گاندھی

صدر کانگریس راہول گاندھی نے رافیل مسئلہ پر آج وزیر فینانس ارون جیٹلی پر جوابی وار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب وقت آچکا ہے کہ وزیر فینانس اور وزیر اعظم ’’ جھوٹ بولنا بند کردیں‘‘ اور ’’ بے داغ سچائی‘‘ کو سامنے لانے کیلئے ایک مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کے ذریعہ مذکورہ معاملہ کی تحقیقات کرائیں۔ اُنہوںنے الزام لگایاکہ جیٹلی‘ ’’ دوسچائیوں یا جھوٹوں کو جعلی خود معلنہ۔ راست بازی کے ساتھ خلط ملط کرنے اور ناقابل مدافعت دفاع کرنے کی ذلت اُٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں‘‘۔ راہول گاندھی نے مذکورہ ریمارکس اپنے ٹوئیٹ پر کئے۔ اُنہوںنے ایک میڈیا رپورٹ بھی ساتھ منسلک کی جس میں‘ اِس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ سابق صدر فرانس فرانسو الاند کے الزامات کے سبب رافیل معاملت پر‘ مودی حکومت پر کس طرح ضر ب پڑی ہے۔ یہاں یہ تذکرہ بیجانہ ہوگا کہ رافیل تنازعہ نے گذشتہ ہفتہ سابق صدر فرانس اولاند کے اِس دعویٰ کے بعد ایک نیا موڑ اختیار کرلیا کہ حکومت ہند نے ڈسالٹ ایوی ایشن کیلئے بطور آفسٹ پارٹنر‘ ریلائنس ڈیفنس کا نام تجویز کیا تھا۔ اُس کے جواب میں حکومت فرانس نے کہاکہ رافیل معاملت کیلئے ہندوستانی صنعتی شرکاء کی پسند کے معاملہ میں وہ( حکومت فرانس) کسی بھی طرح ملوث نہیں ہے۔ فرانسیسی فرموں کو مذکورہ کنٹراکٹ کیلئے ہندوستانی کمپنیوں کا انتخاب کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔ یہاں یہ تذکرہ بیجانہ ہوگا کہ ارون جیٹلی نے قبل ازیں رافیل مسئلہ پر وزیر اعظم مودی کی مدافعت کی تھی اور کہا تھا کہ حکومت فرانس اور ڈسالٹ ایوی ایشن نے سابق صدر (اولاند) کے پہلے بیان کے صحیح ہونے کی پرزور تردید کی ہے۔ اُنہوںنے کہاکہ حکومت فرانس نے بتایا ہے کہ ڈسالٹ ایوی ایشن کے آفسٹ کنٹراکٹس کے تعلق سے فیصلہ حکومت نہیں بلکہ خود وہ کمپنی کرتی ہے۔ ریلائنس گروپ نے اُس ( گروپ) کیخلاف کانگریس کے عائد کردہ الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ڈسالٹ ایوی ایشن کے ساتھ اُس کے آفسٹ کنٹراکٹ کے حصول میں حکومت‘ کسی طرح ملوث نہیں ہے۔
وزیر اعظم مودی نے 10اپریل 2015 کو پیرس میں اُس وقت کے صدر فرانس اولاندے کے ساتھ بات چیت کے بعد 36رافیل لڑاکا طیاروں کی خریدی کا اعلان کیا تھا۔

جواب چھوڑیں