قانون ساز کونسل کے سیشن کی آج طلبی۔ریاست کی تاریخ میں پہلی بار اسمبلی کے بغیر ایوان بالا کا اجلاس

تلنگانہ، ملک کی واحد ریاست ہے جہاں کی نگرانکار حکومت نے قانون ساز اسمبلی کے بغیر قانون ساز کونسل ( ایوان بالا) کا اجلاس طلب کیا ہے ۔ ریاستی گورنر ای ایس ایل نرسمہن نے پہلے ہی 27 ستمبر سے قانون ساز کونسل کے سیشن کے آغاز کا اعلامیہ جاری کردیا ہے ۔ سیشن کا آج کل ،11 بجے دن آغاز ہوگا ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری رہے گاکہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی زیر قیادت ٹی آر ایس حکومت نے ریاست میں قبل از وقت انتخابات کی راہ ہموار کرنے کیلئے6 ستمبر کو اسمبلی تحلیل کرد ی ۔ عموماً ، کونسل کا اجلاس اسمبلی سیشن کے ساتھ طلب کیا جاتا ہے مگر ریاست کی تاریخ میں پہلی بار، اسمبلی کے غیاب میں کونسل کا سیشن منعقد ہوگا ۔ یہ حقیقت ہے کہ کونسل کو اہم فیصلے بالخصوص مالیاتی اور پالیسی امور سے متعلق فیصلوں کا کوئی اختیار نہیں ہے مگر کونسل کو صرف اسمبلی ہی منظور ہ بلز کی توثیق کا اختیار حاصل ہے۔جبکہ اسمبلی میں متعارف اور منظورہ بل کو کونسل میں بھی منظور کیا جانا ضروری ہے ۔ اس کے معنیٰ یہ ہے کہ کونسل کو اسمبلی کی طرح فیصلہ سازی کا کوئی اختیار نہیں ہے ۔ ماہرین قانون کے مطابق اسمبلیوں اور لوک سبھا کا اجلاس6 ماہ کے وقفہ میں ایک بار طلب کیا جانا ضروری ہے ۔ اگر اسمبلی کا اجلاس6 ماہ کے وقفہ کے اندر منعقد نہیں کیا جاتا ہے تو پھر ریاست میں صدر راج نافذ کیا جائے گا۔مگر کونسل کیلئے ایسی کوئی شرط نہیں ہے ۔ اسمبلی اجلاس طلب نہ کرتے ہوئے اسمبلی کو تحلیل کرنے سے ایک تنازعہ پیدا ہوگیا ہے ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے اسمبلی تحلیل کرنے سے قبل ایوان کا سیشن طلب نہیں کیا تھا۔ قانون کے مطابق کم از کم 6 ماہ کے اندر اسمبلی کا اجلاس طلب کیا جانا چاہئے ۔ اگر یہ مدت گذرجاتی ہے تو پھر صدر راج نافذ کیا جائے گا ۔ قانون ساز کونسل کے سیشن کے پہلے دن بزنس اڈوایزری کونسل (بی اے سی ) کا اجلاس منعقد ہوگا جس میں سیشن کے دورانیہ کاتعین کیا جائے گا۔6ستمبر کو ریاستی کابینہ کی خواہش پر اسمبلی کو تحلیل کردیا گیا تھا جس کی وجہ سے صرف قانون ساز کونسل کا ہی اجلاس طلب کیا گیا ہے ۔ عموماً اسمبلی وکونسل کے اجلاس کو طلب کئے جانے کے بعد ایوان میں اٹھا جانے والے امور کو قطعیت دینے کیلئے بزنس اڈوائزری کمیٹی کا اجلاس طلب کیا جاتا ہے مگر بتایا جارہا ہے کہ تلنگانہ قانون ساز کونسل کا 10واں اجلاس صرف ایک دن پرمحیط رہے گا جس میں سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی ، سابق چیف منسٹر ٹاملناڈو ایم کرونا ندھی، سابق اسپیکر لوک سبھا سومناتھ چٹرجی، سابق رکن اسمبلی مانیماں انجیا، رکن قانون ساز کونسل نیرالہ وینو مادھو اور کیرالا کے سیلا ب متاثرین و کونڈاگٹو بس حادثہ کے مہلوکین کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔یو این آئی کے بموجب تلنگانہ قانون ساز کونسل کے سیشن کاآغاز جمعرات سے ہوگا ۔ صدرنشین قانون ساز کونسل سوامی گوڑ نے چہارشنبہ کو سیشن کی بابت، اعلیٰ عہدیداروں سے انتظامات کا جائزہ لیا ۔ سیشن کے دوران اہم مسائل موضوع بحث نہیں آئیں گے اور یہ سیشن مختصر رہے گا ۔ ذرائع نے یہ بات بتائی ۔ کونسل کا اجلاس ماہ مارچ میں منعقد ہوا تھا جس میں تصرف بل کی منظوری دی گئی تھی ۔ ہر 6 ماہ کے وقفہ سے کونسل کا اجلاس طلب کیا جانا ضروری ہے ۔ گذشتہ سیشن سے6 ماہ کے اندر کونسل کا اجلاس منعقد کرنا ناگزیر ہے ۔ 40 رکنی ایوان بالا میں ٹی آر ایس کے33، کانگریس کے5 کے علاوہ بی جے پی اور مجلس کا ایک ، ایک رکن ہے۔

جواب چھوڑیں